سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 20
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 20 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایران اور عراق کے محاذ پر یہ کامیابیاں ہوئیں۔(43) فتوحات شام دوسری طرف حضور ﷺ کے آخری ایام میں رومیوں سے کشمکش کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔آنحضور ع خود اپنی زندگی میں رومی سرحد پر غزوہ تبوک کیلئے گئے تھے۔پھر اسامہ کا لشکر رومی سرحدوں پر بھیجا گیا تھا جہاں آپ کے قاصد حارث بن عمیر کو بصری کے حاکم نے قتل کروا دیا تھا اور جنگ موتہ ہوئی تھی۔شامی سرحد پر خطرے سے نمٹنے کیلئے حضرت ابوبکر نے بعض اسلامی جرنیلوں کو مقرر کیا۔ایک طرف دنیا کی بہت بڑی طاقت ایران سے جنگ جاری ہے تو ادھر دوسری بڑی طاقت شام سے جنگ چھڑ رہی ہے۔حضرت ابو بکر کے ارشاد پر حضرت خالد نے مختلف محاذوں کے امراء کی افواج اکٹھی کر کے جنگ یرموک میں دشمن کا مقابلہ کیا۔جہاں دو لاکھ سے زیادہ ایرانی فوج جمع تھی اور مسلمان کل ملا کر بھی پینتالیس ہزار تھے۔بڑے کانٹے دار مقابلہ کے بعد مسلمانوں کو فتح ہوئی۔اس دوران ہی حضرت ابو بکر کی وفات ہوگئی۔(44) الغرض حضرت ابو بکر کی خلافت کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان استحکام عطاء کیا۔جس کا آغاز حالت خوف سے ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے قیام امن اور تمکنت دین کے وعدے پورے کر کے اڑھائی سالہ مختصر دور میں کتنی عظیم الشان فتوحات انہیں عطا کیں۔حضرت علی نے ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے سامنے اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس دین کو فتح کبھی کثرت لشکر سے نہیں ہوئی اور نہ قلت لشکر سے شکست ہوئی بلکہ یہ اللہ کا دین ہے جسے اس نے خود غالب کیا اور یہ اسی کا لشکر ہے جسے اس نے عزت وقوت دی اور یہ دین وہاں پہنچا جہاں پہنچنا تھا۔خدا کا یہ وعدہ تھا پھر انہوں نے سورہ نور کی آیت استخلاف ( نمبر 56) پڑھی کہ اللہ نے مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو خلیفہ بنائے گا اور ان کو تمنت عطا کرے گا اور اللہ تعالیٰ خوفوں کو امن میں بدل دے گا۔‘ (45) حضور علیہ کے مسلمانوں سے فتوحات کے جو وعدے تھے ان کا حضرت ابو بکر کے دور میں پورا ہونا بھی آپ کے استحکام خلافت کی ایک عظیم الشان دلیل ہے۔