سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 320
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 320 حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ شریک ہوا جن میں وہ شریک نہ ہو سکے انہوں نے فرمایا اسامہ رسول اللہ علیہ کوتم سے زیادہ پیارا تھا اور اس کا باپ رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے زیادہ پیارا تھا۔اس وجہ سے میں نے اسے تم پر ترجیح دی۔لیکن یہ محبت محض اللہ تھی کبھی احکام الہی میں روک نہیں بنی۔چنانچہ ایک دفعہ قبیلہ مخزوم کی ایک معز ز عورت نے چوری کی اس کی شرعی سزا ہاتھ کا ئنا تھی۔جو قبیلہ کے لئے بے عزتی کا باعث تھی۔لوگوں نے سوچا کہ حضور ﷺ سے کون سفارش کرے۔بالآخر اس نتیجہ پر پہنچے کہ اسامہ کے سوا اور کوئی یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ وہ رسول خدا ﷺ کو سب سے زیادہ پیارے ہیں۔چنانچہ اسامہ کو بھیجا گیا تو حضور ﷺ نے نہایت درجہ عدل کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسامہ کو ڈانٹ دیا اور فرمایا اسامہ! کیا تو اللہ کی حدود کے بارہ میں سفارش کرتا ہے۔بنی اسرائیل میں کوئی معزز چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتا اور اگر کمزور ایسا کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے پس اگر اس عورت کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘(4) دینی خدمات حضرت زید 9ھ میں جنگ موتہ میں رومی سرحد پر شہید ہو گئے۔آنحضرت نے وفات سے قبل رومیوں کے مقابلہ کے لئے جولشکر تیار کیا اس کا امیر حضرت اسامہ کو مقرر فرمایا۔اس لشکر میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ ا یسے کبار صحابہ بھی شامل تھے۔اسامہ اس وقت اٹھارہ برس کے تھے۔اس لشکر کا پڑاؤ جرف مقام پر تھا ( جو مدینہ کے قریب ہی ہے )۔حضور ﷺ بیمار ہو گئے اور یہی بیماری مرض الموت ثابت ہوئی۔چنانچہ حضور کی علالت کے پیش نظر یہ لشکر روک دیا گیا۔اسامہ جرف سے ملاقات کو آئے۔حضور خاموش تھے۔بات نہ کرتے تھے۔اسامہ کہتے ہیں ” جب میں حاضر ہوا تو حضور نے دونوں ہاتھ مجھ پر رکھے اور پھر دونوں ہاتھ اٹھائے۔میں جانتا ہوں کہ حضور میرے لئے دعا فرمارہے تھے۔“ سبحان اللہ آقا کی غلام پر شفقت کا عجیب عالم ہے کہ مرض الموت میں بھی اس یتیم بچہ کے لئے دعا گو ہیں۔دراصل یہ آپ کی طبعی محبت کا اظہار تھا۔(5) حضرت زید کی شہادت پر اسامہ کی بہن کو رسول اللہ ﷺ نے روتے دیکھا تو آپ بھی