سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 315
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 315 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رض عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے حضرت اسامہ بن زید کے لئے ساڑھے تین ہزار درہم اور میرے لئے تین ہزار کا وظیفہ مقرر کیا۔میں نے اپنے والد حضرت عمر سے درخواست کی کہ آپ نے اسامہ کو مجھ پر فضیلت دی ہے حالانکہ غزوات میں شرکت کے لحاظ سے انہیں مجھ پر کوئی سبقت حاصل نہیں ہے حضرت عمر نے کیا پیارا جواب دیا کہ اسامہ کا باپ نبی کریم کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھا اور اسامہ آپ علیہ کو تم سے زیادہ عزیز تھا پس میں نے آنحضرت کے حبیب کو اپنے پیار پر ترجیح دی ہے۔(17) غزوہ موتہ میں بنی کریم نے حضرت زید کو اس لشکر پر امیر مقرر فرمایا جس میں حضور کے عم زاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور خالد بن ولید جیسے آزمودہ کار جرنیل شامل تھے۔مگر آنحضرت نے حضرت زید کو امیر مقرر فرمایا جس پر بعض کو تعجب بھی ہوا۔حضرت جعفر نے تو اس تعجب کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہے مجھے چنداں یہ اندیشہ نہ تھا کہ آپ زید کو مجھ پر امیر مقرر فرمائیں گے (ممکن ہے انہیں عبد اللہ بن رواحہ یا خالد کی امارت کا گمان غالب ہو ) نبی کریم نے فرمایا اللہ کا نام لے کر کوچ کرو۔اسی میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔(18) زید کی شہادت اور نیک انجام جب غزوہ موتہ میں اسلامی فوج مشرکین کے آمنے سامنے ہوئی اور جیسا کہ اس زمانہ کا دستور تھا کہ امیر لشکر سواری پر سوار ہونے کی بجائے پیدل ہی جھنڈا اٹھا کر جنگ میں شریک ہوا کرتا تھا۔(جس سے لشکر کے حو صلے اس خیال سے کہ امیر لشکر میدان میں موجود ہے بلند ہوتے تھے ) حضرت زید بن حارثہ نے جھنڈا اٹھایا اور دو بدو دستی لڑائی کا آغاز کیا اور لشکر نے آپ کا ساتھ دیا۔اسلامی لشکر کی صفیں جمی ہوئی تھیں اور ان کے پاؤں نہیں اکھڑ رہے تھے کہ اس دوران دشمن کی فوج نے حضرت زید سالا لشکر کو نشانہ بنا کر تیروں کی بوچھاڑ کر دی حضرت زید نے اس وقت خوب خوب داد شجاعت دی۔رسول خدا کے انتخاب امارت کا حق ادا کر دکھایا۔نیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دے دی مگر لشکر کے پاؤں اکھڑنے نہیں دیئے۔حضرت زید کی عمر پچپن سال تھی۔جب انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔اللہ تعالیٰ حضرت زید کی اس بہادرانہ شجاعت کی خبر نبی کریم ﷺ کو فرما دی۔آپ نے زید کی