سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 303
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 303 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ احادیث میں حضرت بلال کی ایک بیوی سے یہ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ بلال مجھ سے جو بات تم تک پہنچائیں وہی یقینا سچی ہوگی اور بلال تم سے غلط بات نہیں کرے گا۔پس تم بلال پر کبھی ناراض نہ ہونا ور نہ اس وقت تک تمہارا کوئی عمل قبول نہ ہوگا جب تک تم نے بلال کو ناراض رکھا۔(38) بالعموم حضرت بلال کی اولاد کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔کہ اولاد ہوئی جو شاید کم عمری میں فوت ہوگئی۔غالباً اسی وجہ سے بلال کی کنیت ابو عبد اللہ ، ابوعمر اور ابوعبدالکریم بھی معروف تھی۔(39) حضرت بلال کی وفات طاعون عمواس میں حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہوئی۔اور حلب شام میں تدفین عمل میں آئی۔ابن زبر نے کہا آج ہمارا چاند ڈوب گیا۔(40) اے بلال حبشی تجھ پر سلام محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کی بھی کیا شان ہے جس نے تجھ غلام کو ہمارا آقا بنا دیا۔تجھے دیکھ کر حضرت عمرؓ بیچ ہی تو کہا کرتے تھے سیدنا بلال ہمارا آقا بلال۔پس اے ہمارے آقا کے غلام مگر ہم غلاموں کے آقا بلال تجھ پر سلام کہ تو نے صدق و استقامت اور وفا کی ان مٹ داستانیں اپنے خون پسینے سے رقم کیں اور اپنی قوم حبشہ بلکہ افریقہ کے تاریک براعظم کا نام ہمیشہ کے لئے روشن کر دیا ایک بار پھر تجھ پر سلام۔