سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 302 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 302

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 302 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ نے ذاتی توجہ سے خود حضرت بلال کی شادی کروائی۔چنانچہ آپ کی ایک شادی بنی عبدالبکیر میں ہوئی جو اپنی بہن کے رشتہ کی سفارش کے لئے آنحضور کے پاس آئے تو حضور نے فرمایا کہ اس سے اچھا رشتہ تو بلال کا ہے اور دوسری دفعہ پھر وہ اُسی جگہ رشتہ کی سفارش کے لئے آئے تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حبشی کا رشتہ بتلاتا ہوں اور وہ بلال کا رشتہ ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنی بہن کی شادی حضرت بلال سے کر دی۔اسی طرح بنی زہرہ کے عربی قبیلہ میں بھی حضرت بلال کی شادی ہوئی ہے۔(37) پھر جس زمانہ میں بلال شام میں قیام پذیر تھے تو بنی خولان میں ایک شامی خاتون کے ساتھ بھی آپ کی شادی کا ذکر ملتا ہے۔چنانچہ ابو دردانہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فتح بیت المقدس کے بعد جابیہ تشریف لے جانے لگے تو حضرت بلال نے ابو رویحہ کی شام میں تقرری کی درخواست کی جسے انہوں نے قبول فرمالیا جس پر حضرت بلال بہت خوش ہوئے کہ ابور ویحہ جس کا رسول اللہ علی نے مجھے بھائی بنایا تھا ساتھ ہوگا۔پھر آپ اپنے اس بھائی کے ساتھ دورہ کرتے ہوئے بنی خولان کے ایک معزز شامی قبیلہ میں گئے ( اس زمانہ میں اہل شام کا اہل حبشہ سے رشتہ ناطہ کا دستور نہیں تھا مگر اسلام نے رنگ ونسل کی سب تمیز یکسر مٹادی تھی اس لئے ) جب حضرت بلال نے نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے دینی بھائی ابورویحہ ( جو خود ایک غلام تھے جن کو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر جھنڈا دے کر فرمایا تھا کہ جو ان کے جھنڈے نیچے آیا امن میں ہے ) کے لئے بھی اس معز زقبیلہ میں رشتہ کی ایسی پر حکمت اور مؤثر تحریک کی کہ عصبیت جاہلیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہوں نے ان دونوں کی اپنے قبیلہ میں شادیاں کر دیں۔حضرت بلال کی وہ عمدہ تحریک آپ کی ذہانت کی خوب داد دیتی ہے۔آپ نے فرمایا ” اے بنی خولان میرا بھائی ابور ویحہ اور میں آپ کے قبیلہ میں شادی کرنا چاہتے ہیں بیشک ہم کا فر تھے پھر خدا نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی۔ہم دونوں غلام تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی بخشی۔ہم تہی دست و حقیر تھے خدا نے ہمیں غنی کر دیا۔پس اگر آپ لوگ ہمیں رشتہ دیتے ہو تو الحمد للہ اور اگر انکار کرتے ہو تو (ہم مایوس نہیں ) سب قوت وطاقت اللہ کو حاصل ہے۔“ چنانچہ ان دونوں کی شادی اس شامی قبیلہ میں ہوگئی۔