سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 273
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 273 حضرت عبد اللہ بن مسعود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن مسعود بھی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمدیہ کی قوت قدسیہ کا ایک عجیب نشان تھے۔بظاہر پستہ قد اور سانولے رنگ کے اس چرواہے کو آنحضرت ﷺ نے اپنے فیض صحبت میں لیا اور آسمان روحانیت کا ایک روشن ستارہ بنا دیا۔حضرت عبداللہ بن مسعود نے ایک طرف علم و عمل کی معراج حاصل کی تو دوسری طرف کوفہ کی گورنری کے منصب تک پہنچے۔نام و نسب اور قبول اسلام حضرت عبداللہ بن مسعود قبیلہ بنوھذیل سے تعلق رکھتے تھے۔کنیت ابو عبد الرحمان تھی۔آپ کی والدہ ام عبد اللہ بنت عبدود کو اسلام قبول کرنے اور صحابیہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔(1) حضرت عبد اللہ کو بہت ابتدائی زمانے میں دارارقم میں ہی چھٹے نمبر پر اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ خود اپنے قبول اسلام کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔اسی دوران نبی کریم اور حضرت ابوبکر میرے پاس تشریف لائے۔ان کے اعلیٰ اخلاق اور بعض نشانات کو دیکھ کر اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔شوق علم حضرت عبداللہ نے حضور ﷺ کو کچھ قرآنی آیات پڑھتے سنا تو آپ سے عرض کیا کہ مجھے بھی یہ کام سکھا دیں۔نبی اکرم ﷺ نے آپ کا شوق علم دیکھ کر حوصلہ افزائی کی اور حوصلہ بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ ” تمہارے اندر تو سیکھنے کی استعداد خوب ہے (2) چنانچہ حضرت عبد اللہ نے نبی کریم ﷺ سے کلام الہی کا درس لیا۔خود بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے خود حضور ﷺ سے ستر سورتیں سیکھیں۔اور ایک زمانہ تھا کہ صحابہ میں سے کسی کو اتنی سورتیں یاد نہ تھیں۔حضرت علی فرماتے تھے کہ اللہ کی کتاب کو سب سے پہلے زبانی یاد کر کے پڑھنے والے عبداللہ بن مسعود تھے۔(3)