سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 235
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 235 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے ساتھ میرے سامنے سے گزرے ہیں۔انہوں نے نے مجھے سلام کے بعد بتایا کہ فلاں دن میرا مشرکوں سے مقابلہ ہوا تھا اور مجھے تہتر کے قریب زخم جسم کے اگلے حصے میں تیر، تلوار اور نیزے کے آئے۔جھنڈا میرے دائیں ہاتھ میں تھا وہ کٹ گیا تو میں نے بائیں ہاتھ میں جھنڈا لے لیا وہ بھی کٹ گیا۔اس کے عوض اللہ نے مجھے دو پر عطا کئے ہیں جن سے میں فرشتوں کے ساتھ محو پرواز ہوں۔(9) حضرت عبداللہ بن عمرؓ ( جو اس غزوہ میں شریک تھے ) کی روایت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت جعفر نے کس بے جگری سے داد شجاعت دیتے ہوئے عظیم الشان شہادت پائی انکا بیان ہے جنگ کے بعد میدان موتہ میں ہم نے اپنے امیر حضرت جعفر کی نعش تلاش کی تو دیگر شہداء میں ان کو اس حال میں پایا کہ ان کے جسم میں تلواروں اور نیزوں کے ستر سے بھی زائد زخم تھے اور ان میں سے کوئی ایک زخم بھی پشت پر نہ تھا مسلمانوں کے اس بہادر جرنیل نے ہر وار اپنے سینہ پر لیا تھا۔(10) یوں اپنی سپاہ کی طرف سے حق امارت ادا کر دکھایا تھا۔اس طرح رسول اللہ ﷺ کی وہ بات بھی پوری ہوگئی جو آپ نے انہیں امیر مقرر کرتے ہوئے فرمائی تھی کہ کیا معلوم کس کی امارت کب اور کہاں مناسب ہے؟ شہید کے خاندان سے حسن سلوک نبی کریم ہے کے حضرت جعفر سے تعلق محبت اور ان کے جذبہ فدائیت کی قدر دانی کا اندازہ ان واقعات سے بخوبی ہوتا ہے جو ان کے اہل وعیال کے ساتھ حضور کی شفقتوں کی صورت میں ظاہر ہوئے۔آپ بنفس نفیس حضرت جعفر کے گھر ان کی شہادت کی خبر دینے تشریف لے گئے۔حضرت جعفر کی بیوہ اسماء بنت عمیس کا بیان ہے ” جب حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی خبر آئی تو رسول کریم ہمارے گھر تشریف لائے۔میں گھر کے کام کاج آٹا وغیرہ گوندھنے کے بعد بچوں کو نہلا دھلا کر فارغ ہوئی ہی تھی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ۔میں انہیں حضور کے پاس لے آئی۔آپ نے ان کو گلے لگایا اور پیار کیا آپ کی آنکھوں میں آنسو اند آئے۔اسماء کہتی ہیں میں نے گھبرا کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر امڈ