سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 9 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 9

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 9 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جنہوں نے پوسٹ کو پھسلانے کی کوشش کی تھی۔ابو بکر کو کہو کہ نماز پڑھائیں۔(26) ایک دفعہ حضرت ابو بکڑ کی غیر موجودگی میں حضرت بلال نے حضرت عمر ونماز پڑھانے کے لئے کہہ دیا۔جب حجرہ میں رسول اللہ ﷺ کو حضرت عمر کی آواز پہنچی تو فرمایا ابوبکر کہاں ہیں۔اللہ اور مسلمان یہ بات پسند کرتے ہیں کہ ابو بکر نماز پڑھائیں۔(27) دراصل ان ارشادات میں حضرت ابو بکر کی امامت اور خلافت کی طرف اشارہ تھا جو آئندہ آپ کو عطاء ہونے والی تھی۔وفات رسول اور قیام خلافت راشدہ آنحضرت ﷺ کی وفات پر جب صحابہ مارے غم کے دیوانے ہو گئے اور ہزاروں بادیہ نشین مرتد ہو گئے اور ایک عجیب خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوگئی۔حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابی بھی رسول اللہ کی محبت میں از خود رفتہ ہو کر یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ رسول اللہ فوت ہو گئے ہیں۔وہ تلوار کھینچ کر یہ اعلان کرنے لگے کہ جو کہے گا کہ رسول اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں ، میں اس کا سر تن سے جدا کر دوں گا۔معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اس اچانک صدمہ کے لئے تیار نہیں تھے۔اس موقعہ پر حضرت ابو بکر کو خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا اور آپ استحکام خلافت کا باعث بنے۔وہ روحانی قیادت جس کی صلاحیت آپ کے وجود میں مخفی تھی حالات کے تقاضا پر باذن الہی سامنے آئی اور آپ آنحضرت ﷺ اور اسلام کی حمایت میں آگے بڑھے۔حضرت ابو بکر مدینے کے مضافات سیخ نامی بستی میں رہائش پذیر تھے آپ مدینے تشریف لائے آنحضرت کی پیشانی پر بوسہ دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔پھر مسجد تشریف لے گئے وہاں حضرت عمرؓ اس وقت تلوار لے کر کھڑے ہوئے تھے۔ان سے آپ نے فرمایا اے قسمیں اٹھا کر تقریر کرنے والے ٹھہر واور بیٹھ جاؤ۔“ پھر صحابہ سے یوں مخاطب ہوئے۔مَن كَانَ مِنكُم يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَد مَاتَ وَمَن كَانَ مِنكُم يَعْبُدُ اللَّهَ فإِنه حَتی لَا يَمُوتُ کہ جو تم میں سے محمد اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ یادرکھے کہ محد یہ فوت ہو چکے ہیں۔اور تم میں سے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ یادر کھے کہ خدا زندہ ہے اس پر کبھی موت نہ آئے گی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔وَمَا مُحَمَّد إِلَّا رَسُول قَد خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( آل عمران : 145)