سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 206
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 206 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے جوش میں آکر کہا کہ آج دیکھتے ہیں بزدل کون ہے؟ پھر عتبہ نے مسلمانوں کو دعوت مبارزت دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ہے جو دست بدست جنگ میں میرا مقابلہ کرے۔اب انصار مدینہ کی وفا کا بھی امتحان تھا اور انہوں نے جو عہد اپنے پیارے آقا سے باندھا تھا آج اس کی خوب لاج رکھی اور سب سے پہلے انصار عتبہ کے مقابلہ کیلئے آگے بڑھے۔(8) عتبہ کے ساتھ اس کا بھائی شیبہ اور بیٹا ولید بھی تھا جب انصار انکے مقابلے میں آئے تو عتبہ نے پوچھا تم کون لوگ ہو انہوں نے بتایا ہم انصار مدینہ ہیں۔عقبہ کہنے لگا، ہمیں تم سے کچھ غرض نہیں۔ہم تو اپنے قبیلے کے لوگوں سے لڑنے کیلئے آئے ہیں۔اس موقع پر ہمارے آقا مولیٰ حضرت محمد مصطفی نے قائدانہ بصیرت، کمال دانش مندی اور عالی حوصلگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً اپنے عزیز و اقارب کو مقابلہ پر آنے کیلئے حکم فرمایا تو سب سے پہلے حضرت حمزہ اور حضرت علی کا نام لیا۔آپ نے فرمایا اے حمز کا کھڑے ہو جاؤ اور اے علی ! اٹھو ، اے عبیدہ ! آپ مقابلے کیلئے نکلو۔حضرت حمزہ ارشاد رسول ﷺ کی تعمیل میں عقبہ کے مقابلے میں آگے بڑے اور اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔(9) حضرت ابو ڈ ر قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ حضرت حمزہ اور ان کے ساتھیوں نے جس شان کے ساتھ اس دعوت مبارزت کا جواب دیا تھا۔اس کی طرف اشارہ کلام الہی میں بھی ہے کہ یہ دو قسم کے مدمقابل ہیں جو خدا تعالیٰ کی ذات کے بارہ میں برسر پیکار تھے۔(10) حضرت حمزہ کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ غزوہ بدر میں کفار میں دہشت ڈالنے کیلئے آپ نے شتر مرغ کا ایک پر کلفی کی طرح اپنی پگڑی میں سجا رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر جگہ نمایاں نظر آتے تھے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ امیہ بن خلف نے مجھ سے پوچھا کہ یہ شتر مرغ کی کافی والا شخص بدر میں کون تھا میں نے کہا رسول اللہ اللہ کے چا حمزہ بن عبد المطلب۔وہ بولے یہی وہ شخص ہے جو ہم پر عجیب طرح تباہی و بربادی لے کر ٹوٹ پڑا تھا۔(11) چنانچہ سرولیم میور نے بھی اپنی کتاب لائف آف محمد میں اس کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔کہ