سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 205 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 205

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 205 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ وسعت رکھتا ہوگا۔حضور ﷺ نے فرمایا ”ہاں یہ سچ ہے۔اور یہ بھی سن لو کہ مجھے عام لوگوں سے کہیں زیادہ تمہاری قوم انصار کا اس حوض سے سیراب ہونا پسند ہے۔خواہ کہتی تھیں میں نے حضور میلے کی تواضع کرتے ہوئے اپنا وہ برتن جس میں کھانا یا شائد کچھ میٹھا تیار کیا گیا تھا۔حضور علیہ کی خدمت میں گرم گرم پیش کر دیا۔حضور نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا تو گرم کھانے سے آپ کا ہاتھ جل گیا۔اس پر آپ نے فرمایا ”خوب ! پھر فرمانے لگے کہ انسان کا بھی عجیب حال ہے اگر اسے ٹھنڈک پہنچے تو بھی کہتا ہے خوب ہے اور اگر گرمی پہنچے تو بھی ایسا ہی اظہار کرتا ہے“۔(7) اس حدیث سے نبی کریم ﷺ کے صبر ورضا کی وہ خاص کیفیت ظاہر ہوتی ہے جو عام لوگوں میں پائی نہیں جاتی۔غزوہ بدر میں بہادری حضرت حمزہ بڑے قد آور وجیہ اور بہادر نوجوان تھے اور انہی صفات سے آپ اپنے ماحول میں پہچانے جاتے تھے۔حضرت حمزہ کی شجاعت اور بہادری کے جو ہر اسلامی غزوات میں خوب کھل کر سامنے آئے۔حضرت علی غزوہ بدر کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ اس میں کفار کی تعداد مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی۔رات بھر رسول اللہ یہ خدا کے حضور عاجزانہ دعاؤں اور تضرعات میں مصروف رہے۔جب کفار کا لشکر ہمارے قریب ہوا اور ہم ان کے سامنے صف آرا ہوئے تو نا گاہ ایک شخص پر نظری پڑی جو سرخ اونٹ پر سوار تھا اور لوگوں کے درمیان اس کی سواری چل رہی تھی۔رسول کریم ﷺ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا اے علی حمزہ جو کفار کے قریب کھڑے ہیں انہیں بلا کر پوچھو کہ یہ سرخ اونٹ والا ان سے کیا کہ رہا ہے۔پھر حضور ﷺ نے فرمایا اگر ان لوگوں میں کوئی شخص انہیں خیر بھلائی کی نصیحت کر سکتا ہے تو وہ سرخ اونٹ والا شخص ہے۔اتنی دیر میں حضرت حمزہ بھی آگئے۔انہوں نے آکر بتایا کہ وہ سرخ اونٹ والا شخص عتبہ بن ربیعہ تھا جو کفار کولڑائی سے منع کر رہا تھا۔جس کے جواب میں ابو جہل نے اسے کہا کہ تم تو بزدل ہو اور لڑائی سے ڈرتے ہو۔عتبہ