سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 199
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 199 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہے۔حضرت طلحہ نے بخوشی حامی بھر لی اور ان تینوں نو مسلموں کو اپنے گھر میں لے گئے اور وہیں ٹھہرایا اور ان کی میزبانی کرتے رہے۔یہاں تک کہ موت نے انہیں آپ سے جدا کیا۔اُن میں سے دو ساتھی تو یکے بعد دیگرے دوغزوات میں شہید ہوئے اور تیسرے طلحہ کے گھر میں ہی وفات پاگئے۔طلح یکو جو خدا کے رسول ﷺ کے ان مہمانوں سے دلی محبت اور اخلاص پیدا ہو چکا تھا اس کا نتیجہ تھا کہ مہمانوں کی وفات کے بعد بھی خواب میں آپ کی اُن سے ملاقاتیں ہوئی۔ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ وہ تینوں آپ کے ساتھ ہی جنت کے دروازے پر کھڑے ہیں۔مگر جو ساتھی جو سب سے آخر میں فوت ہوا وہ سب سے آگے ہے۔اور سب سے پہلے مرنے والا سب سے پیچھے ہے۔انہوں نے تعجب سے رسول کریم سے اس خواب کی تعبیر پوچھی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو بعد میں مرا اُسے زیادہ نیک اعمال کی توفیق ملی اس لئے وہ پہلوں سے بڑھ گیا۔اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت طلحہ نے اپنی صحبت سے بھی ان نو مسلموں کی تربیت اپنے روحانی دستر خوان کے علاوہ انہیں خوب فیض عطا کیا اور وہ جنتی ٹھہرے۔(17) حضرت طلحہ دوستی اخوت کے رشتے میں بھی کمال رکھتے تھے۔حضرت کعب بن مالک انصاریؒ کو غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو سکنے کے باعث مقاطعہ کی سزا ہوئی تھی۔جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی معافی کا اعلان کیا اور وہ آنحضرت کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو مجلس میں سے حضرت طلحہ دیوانہ وار دوڑتے ہوئے ان کے استقبال کو آگے بڑھے اور مصافحہ کر کے انہیں مبارکبا د عرض کی۔حضرت کعب انصاری نے بھی حضرت طلحہ کا اس اعلیٰ خلق کو کبھی فراموش نہیں کیا۔وہ ہمیشہ یادکیا کر کے کہتے تھے کہ اس موقع پر مہاجرین میں سے کسی صحابی نے اس والہانہ گرمجوشی کا میرے ساتھ مظاہرہ نہیں کیا جس طرح حضرت طلحہ و فورِ جذبات میں اُٹھ کر دوڑے آئے۔(18) شادی اور اولاد حضرت طلحہ کی پہلی شادی حضرت حمنہ بنت حجش سے دوسری حضرت ام کلثوم بنت ابی بکر سے تیسری شادی فارعہ بنت ابوسفیان سے اور چوتھی رقیہ بنت ابی امیہ سے ہوئی۔ان چاروں بیویوں کی بہنیں رسول اللہ ﷺ کی ازواج تھیں۔یوں آپ رسول اللہ ﷺ کے ہم زلف تھے۔آپ کے اخلاق کا ایک خوب صورت نقشہ آپ کی اہلیہ ام ابان نے کھینچا ہے۔انہیں بہت رشتے آئے تھے مگر