سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 198 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 198

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم انفاق فی سبیل اللہ 198 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے موقع پر آپ کو دل کھول کر خرچ کرنے کی توفیق ملی تھی اور اسی موقع پر آنحضور ﷺ نے آپ کو فیاض کے لقب سے یاد فرمایا تھا۔(14) آپ کے ہم عصر قیس بن ابی ہاضم کہا کرتے تھے کہ میں نے طلحہ سے زیادہ کسی کو خدا کی راہ میں بے لوث مال خرچ کرنے میں پیش پیش نہیں دیکھا۔غزوہ ذی القرد میں چشمہ بیسان کے پاس سے مجاہدین کے ساتھ گزرتے ہوئے حضرت طلحہ نے اسے خرید کر خدا کی راہ میں وقف کر دیا تھا۔اپنی جائیداد سات لاکھ درہم میں حضرت عثمان گو فروخت کی اور سب مال خدا کی راہ میں خرچ کر دیا۔آپ کی بیوی سود فرمایا کرتی تھیں کہ ایک دفعہ حضرت طلحہ گو اداس دیکھ کر وجہ پوچھی کہ کہیں مجھ سے تو کوئی خطا سرزد نہیں ہوگئی تو فرمانے لگے نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں دراصل میرے پاس ایک بہت بڑی رقم جمع ہوگئی ہے اور میں اس فکر میں ہوں کہ اُسے کیا کروں۔میں نے کہا اسے تقسیم کروا دیجیئے۔آپ نے اسی وقت اپنی لونڈی کو بلایا اور چار لاکھ کی رقم اپنی قوم کے مستحقین میں تقسیم کرادی۔(15) حضرت طلحہ بنو تمیم کے تمام محتاجوں اور تنگ دست خاندانوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔لڑکیوں اور بیوگان کی شادیوں میں ان کی مدد کرتے۔مقروضوں کے قرض ادا کرے۔ایک دفعہ حضرت علیؓ نے کسی کو یہ شعر پڑھتے سنا فَتَى كَانَ يُدْنِيهِ الغِنَى مِنْ صَدِيقِهِ إِذَ امَّاهُوَا اسْتَغْنى وَيُبْعِدُهُ الْفَقْرُ یعنی میرا مروح ایسا شخص تھا کہ دولت و امارت اسے اپنے دوست کے اور قریب کر دیتی تھی جب بھی اسے دولت و فراخی نصیب ہوتی۔اور غربت و فقر اسے اپنے دوستوں سے دور رکھتے یعنی کبھی تنگی میں بھی کسی سے سوال نہ کرتے۔حضرت علیؓ نے یہ شعر سنا تو فرمایا ” خدا کی قسم ! یہ صفت حضرت طلیہ میں خوب پائی جاتی تھی۔‘(16) ایثار و مهمان نوازی مہمان نوازی حضرت طلحہ کا خاص وصف تھا۔ایک دفعہ بنی عذرہ کے تین مفلوک الحال افراد نے اسلام قبول کیا۔رسول کریم ﷺ نے پوچھا کہ صحابہ میں سے کون ان کی کفالت اپنے ذمہ لیتا