سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 3 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 3

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 3 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ والا تھا جو اس نے اٹھائی تھیں۔وہی ابو بکر جو غار ثور میں آنحضور کے ساتھ دوسرا شخص تھا جس نے اپنے وجود کو آپ کی اتباع میں بالکل محو کر رکھا تھا اور جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا تھا اسے خوبصورت بنا دیتا تھا۔اور وہ ان لوگوں میں سے پہلا تھا جو رسول اللہ پر ایمان لائے تھے۔ہاں وہ ابو بکر جسے قرآن میں دو میں سے دوسرا کہہ کر یاد کیا گیا ہے۔اس وقت جب وہ پہاڑی پر چڑھے تھے اور دشمن نے اس غار کا گھیراؤ کرلیا تھا۔‘(7) تبلیغ اسلام اسلام لانے کے بعد حضرت ابو بکر ہمہ تن اسلام کی تبلیغ اور دوسرے دینی کاموں میں مصروف ہو گئے۔ان کی تبلیغی کا وشوں اور دعاؤں کے نتیجہ میں قریش مکہ کے مایہ ناز فرزند اسلام کی آغوش میں آگئے۔جن میں حضرت عثمان ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر بن العوام ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمن بن عوف خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔یہ سب اصحاب عشرہ مبشرہ میں شمار ہوئے۔رسول کریم نے ان کی زندگی میں ہی انہیں جنت کی بشارت دی۔مسلمان ہونے کے بعد حضرت ابو بکر نے جب مسلمان غلاموں کو ظلم وستم کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا تو انہیں خرید کر آزاد کرا دیا۔ان آزاد ہونے والے غلاموں میں حضرت بلال ، عامر بن فہیرہ، نذیریہ ، نہد یہ اور جاریہ بن نوفل معروف ہیں۔ان کے علاوہ بھی حضرت ابو بکڑ نے بیسیوں غلاموں کو خرید کر آزاد کروایا اور اپنا مال بے دریغ خدا کی راہ میں خرچ کیا۔(8) راہ خدا میں تکالیف رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”جب لوگوں نے انکار کیا ابو بکر نے میری تصدیق کی اور اپنے مال اور جان سے میری مدد کی۔حضرت ابو بکر نے اسلام قبول کرنے کے بعد بہت تکالیف اٹھا ئیں۔بعض دفعہ قریش مکہ نے اتنا مارا کہ سر کے بال گر گئے کیونکہ وہ آپ کے سر اور داڑھی کے بالوں کو پکڑ کر کھینچتے تھے۔حضرت ابو بکر کے ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے۔ابھی مسلمان چالیس افراد سے بھی کم تھے کہ انہوں نے آنحضرت سے بڑے اصرار کے ساتھ خانہ کعبہ میں اعلانیہ عبادت کرنے