سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 153
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 153 حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہوا کیونکہ قرآن کے ظاہری الفاظ سے جزیہ صرف اہل کتاب سے ہی لینے کا حکم معلوم ہوتا تھا۔حضرت عبدالرحمن نے اجتہاد سے یہ عقدہ بھی حل کیا کہ آنحضور نے ان لوگوں کے ساتھ بھی اہل کتاب کا سلوک کیا اور انہیں ذمی قرار دیا تھا جیسے ہجر کے مجوسیوں سے سلوک ہوا۔طاعون عمواس کے موقع پر حضرت عمر سرغ مقام سے حضرت عبدالرحمن کی روایت کی بناء پر ہی واپس لوٹ آئے تھے اور شام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ان کی رائے ایسی پختہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے بوقت وصال یہ وصیت فرمائی کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نہایت صائب الرائے ، صاحب عقل و دانش اور سلیم الطبع ہیں انکی رائے کو بہت اہمیت دینا۔اور اگر انتخاب خلافت میں کوئی مشکل پیدا ہو تو جس طرف حضرت عبدالرحمن بن عوف ہوں ان کا ساتھ دینا۔حضرت عمر کی یہ رائے بلاشبہ ذاتی تجربے پر مشتمل تھی جو درست ثابت ہوئی۔(9) اخلاق فاضلہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اعلی اخلاق کے مالک تھے۔خوف خدا، حب رسول، صدق و عفاف،امانت و دیانت، رحم وکرم، فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ آپ کی روشن صفات تھیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا عبد الرحمن بن عوف مسلمانوں کے سرداروں میں سے سردار ہیں۔وہ آسمان میں بھی امین ہیں اور زمین میں بھی ! خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ ایک دن روزے سے تھے۔دستر خوان لگایا گیا تو ان نعمتوں کو دیکھ کر بے اختیار رونے لگے آپ کو مسلمانوں کے ابتدائی زمانے کے فقر و فاقہ کے دن یاد آ گئے۔کہنے لگے کہ میرا بھائی مصعب بن عمیر مجھ سے بہتر تھا مگر وہ جب شہید ہوا تو کفن کی چادر بھی نصیب نہ ہوئی سرڈھانکتے تھے تو پیر ننگے ہو جاتے تھے اور پاؤں ڈھانکتے تھے تو منہ نگا ہو جاتا تھا۔پھر پاؤں پر گھاس ڈالی گئی اور سر کو کفن سے ڈھانک کر دفن کیا گیا۔یہ تھا احد کے میدان کا شہید مصعب بن عمیر۔آج دنیا کی کتنی نعمتیں ہمیں حاصل ہیں یہ دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ نیکیوں کا بدلہ کہیں ہمیں دنیا میں ہی نہ عطا کر دیا گیا ہو۔یہ کہا اور اتنی رقت طاری ہو گئی کہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔(10) حضرت عبد الرحمان بن عوف وہ خوش قسمت صحابی ہیں جنہیں ایک وہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا جو امت میں کسی اور کو نصیب نہیں۔آپ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔حضور یے