سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 131 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 131

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 131 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اس وقت مجلس نبوی میں ایک عجب کیفیت تھی جب صحابہ رسول سر اٹھا اٹھا کر وفور شوق سے یہ معلوم کرنا چاہ رہے تھے کہ دیکھیں اب یہ سعادت کس خوش بخت کے حصہ میں آتی ہے۔انتظار کے لمحے ختم ہوئے اور رسول خدا ﷺ نے فرمایا ” ابوعبیدہ کھڑے ہوں“ جب وہ اپنی نشست پر سے اٹھے تو ہمارے آقاو مولا کی زبان فیض ترجمان سے ابو عبیدہ کو ایک دائمی اور تاریخی سند عطاء ہوئی آپ نے فرمایا: یہ ہے اس امت کا امین اور پھر صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا ” ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے۔اے میری امت کے لوگو! ہما را امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے۔(7) حقیقت یہ ہے کہ امین الامت کا خطاب ابو عبیدہ کے لئے عظیم الشان اعزاز تھا جس میں دراصل ان کے پاکیزہ کردار کا خلاصہ بیان کر دیا گیا۔ان کے حق میں کیا خوب فرمایا کہ میں اپنے صحابہ میں سے ہر ایک کے کسی خلق پر گرفت کر سکتا ہوں سوائے ابوعبیدہ کے جو بہت عمدہ واعلیٰ اخلاق کے حامل ہیں۔“ (8) ہر چند کہ امین الامت کا بلند پایہ خطاب پانے والے اس عظیم انسان کی سیرت وسوانح پر پہلے بھی اہل قلم نے خامہ فرسائی کی ہے۔راقم الحروف نے امین الامت‘ کی سیرت کا مطالعہ ادا ئیگی امانات کے اس اہم پہلو کے حوالہ سے کیا تو اس جوان رعنا کی سیرت ایک نئے حسین روپ میں جلوہ گر ہوئی۔حضرت ابو عبیدہ بہت بھاری اموال کے بھی امین بنائے جاتے رہے، قومی امارت کی امانت بھی آپ کو سونپی گئی جس کے حق آپ نے خوب ادا کئے۔اس جگہ جملہ اخلاق فاضلہ کا حق امانت ادا کر نے کے لحاظ سے سیرت ابوعبیدہ کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔بدر میں تاریخی شرکت غزوہ بدر میں ایک سپاہی کی حیثیت سے آپ کی امانت کا امتحان یوں ہوا کہ مد مقابل لشکر کفار میں آپ کے بوڑھے والد عامر بھی برسر پیکار تھے۔ابو عبیدہ ایک بہادر سپاہی کی طرح داد شجاعت دیتے ہوئے میدان کارزار میں آگے بڑھتے چلے جارہے تھے والد سے سامنا ہو گیا جو کئی بار تاک کر ان کو نشانہ بنانے کی کوشش کر چکا تھا، ذرا سوچنے تو وہ کتنا کٹھن اور جذباتی مرحلہ ہوگا کہ ایک طرف باپ ہے اور دوسری طرف خدا اور اس کا رسول ہیں۔جن کے خلاف باپ تلوار سونپ کر نکلا ہے ،مگر