سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 117
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 117 حضرت علی رضی اللہ عنہ حسن اور حضرت ابن عمرؓ آپ کے آگے تھے ، مہاجرین و انصار کی ایک جماعت کے ہمراہ انہوں نے محاصرین پر حملہ کر کے انہیں منتشر کر دیا۔پھر حضرت عثمان سے عرض کیا کہ اس معاملہ کا حل ان محاصرین کے مسلح مقابلہ کے سوا کچھ نہیں جو خلیفہ وقت کے قتل کے درپے ہیں۔مگر حضرت عثمان نے قسم دے کر فرمایا کہ میں اپنی خاطر کسی مسلمان کا سنگی برابر خون بہانے کی بھی اجازت نہیں دوں گا۔حضرت علی نے اپنی رائے پر اصرار کیا تو حضرت عثمان پھر وہی جواب دیا۔حضرت شداد بن اوس کہتے ہیں پھر میں نے حضرت علی کو حضرت عثمان کے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا وہ کہہ رہے تھے، ”اے اللہ تو جانتا ہے کہ ہم نے اپنی تمام کوششیں صرف کر ڈالی ہیں۔پھر وہ نماز کیلئے مسجد نبوی تشریف لے گئے تو ان سے عرض کیا گیا کہ آپ نماز پڑھا دیں۔حضرت علیؓ نے فرمایا ایسی حالت میں جبکہ ہمارا امام اور خلیفہ محصور ہے میں تمہیں نماز نہیں پڑھا سکتا۔میں اکیلے نماز پڑھ لوں گا۔‘“ پھر آپ تنہا نماز پڑھ کر واپس گھر تشریف لے گئے تو صاحبزادے نے جا کر اطلاع دی کہ محاصرین نے قصر خلافت کی دیوار کود کر حملہ کر دیا ہے۔حضرت علی نے رنجیدہ خاطر ہو کر کہا ” خدا کی قسم ! وہ انہیں قتل کر کے دم لیں گے۔انہوں نے پوچھا حضرت عثمان کا یہ انجام کیسا ہے؟ فرمایا وہ جنت میں خدا کا قرب پانے والے ہیں۔جب پوچھا گیا کہ محاصرین کا کیا انجام ہوگا تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا خدا کی قسم وہ آگ میں ہیں۔اس کے بعد اپنے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حسین کو بھجوادیا کہ خلیفہ وقت کے پہرے اور حفاظت کی ڈیوٹی انجام دیتے رہیں۔(27) انتخاب خلافت حضرت عثمان کی شہادت کے المناک واقعہ کے بعد موجود اصحاب رسول اور دیگر سب لوگوں نے حضرت علی کی بیعت پر اتفاق کا اظہار کیا۔آپ نے فرمایا یہ تمہارا حق نہیں ہے بلکہ بدر میں شامل ہونے والے بزرگ صحابہ کا حق ہے۔وہ جس شخص کے بارے میں متفق ہونگے وہی خلیفہ ہونا چاہئے۔چنانچہ تمام اصحاب بدر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ ہم سب آپ کو اس عہدہ کا زیادہ حقدار سمجھتے ہیں۔ہاتھ بڑھا ئیں اور ہماری بیعت لیں۔حضرت علیؓ نے پوچھا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کہاں ہیں؟ چنانچہ سب سے پہلے حضرت طلحہ نے آپ کی بیعت کی۔پھر حضرت زبیر