سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 116
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 116 حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کی نیت حج اور عمرہ دونوں کی تھی۔حضرت علی کو بھی حج وعمرہ کی توفیق ملی۔حجتہ الوداع سے واپسی کے چند ماہ بعد ربیع الاول 11 ہجری میں رسول اللہ ﷺ بیمار ہو گئے۔حضرت علی کو تیمار داری اور خدمت کی توفیق ملی۔(25) وفات رسول پر حضور ﷺ کے قریب ترین عزیز ہونے کے باعث تجہیز وتکفین کے سب کام حضرت علی کے زیر انتظام سرانجام پائے۔خلفائے راشدین کے دور میں خدمات حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے تو ان کی بیعت کے بعد حضرت علیؓ نے ان کے انصار و اعوان میں شامل ہونے کا شرف حاصل کیا۔حضرت عمرؓ اپنے دور خلافت میں اہم کام اور مہمات کے فیصلے حضرت علی کے مشورے سے طے فرمایا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے ایک مجنون عورت کے ہاں چھ ماہ بعد بچے کی ولادت کو نا جائز سمجھ کر رحم کا ارادہ کیا۔حضرت علیؓ نے مشورہ دیا کہ قرآن میں حمل اور دودھ چھڑانے کا عرصہ میں ماہ اور دودھ پلانے کا دو سال یعنی چو بیس ماہ مذکور ہے اس لئے اصل مدت حمل چھ ماہ بھی ہو سکتی ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے مجنون کو مکلف نہیں ٹھہرایا۔اس پر حد جاری نہ ہوگی۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔‘ (26) حضرت عمرؓ کو جب بیت المقدس کا تاریخی سفر پیش آیا تو مدینہ میں اپنا قائم مقام حضرت علی کو مقرر فرمایا۔بعد میں یہ تعلق مضبوط ہو کر قرابت میں بدل گیا۔جب حضرت علی کی صاحبزادی ام کلثوم حضرت عمر سے بیاہی گئیں۔حضرت عمر نے بھی اس نکاح کا مقصد خاندان اہل بیت سے رشتہ مصاہرت کا اعزاز پانا ہی قرار دیا۔حضرت عثمان غنی کے زمانہ خلافت میں حضرت علی ان کے مشیر رہے اور فتنہ دور کرنے کے لئے مخلصانہ مشورے دئے۔حضرت عثمان کے استفسار پر حضرت علی نے نہایت ادب سے عرض کیا کہ ان فتنوں کا ایک اہم سبب اموال کی کثرت ہے جن پر حضرت عمر کی طرح سخت گرفت ہونی چاہیے۔حضرت عثمان کے محاصرے کے وقت بھی حضرت علیؓ نے نہایت جرات کے ساتھ محاصرین کو تنبیہ فرمائی کہ تمہارا یہ طریق نہ صرف اسلام بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔مگر شر پسندوں نے آپ کی آواز پر کان نہ دھرا۔پھر حضرت علی نے رسول اللہ ﷺ کا عمامہ پہنا اور تلوار ہاتھ میں لی۔حضرت