سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 111
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 111 حضرت علی رضی اللہ عنہ ۵ ہجری میں غزوہ خندق پیش آیا۔اس دوران میں ایک بار دشمن کے سواروں نے عرب کے مشہور اور بہا در پہلوان عبدوڈ کی سرکردگی میں خندق پار کر کے حملے کی کوشش کی۔عبدو ڈ اسلحہ سے لیس اور زرہ بند ہو کر مسلمانوں کو مقابلہ کے لئے للکارنے لگا کہ کوئی ہے جو میرے مقابلہ پر آئے۔حضرت علی اٹھے تو رسول اللہ ﷺ نے روک لیا۔اس نے دوبارہ اور سہ بارہ للکارا تو حضرت علی پھر اٹھے۔رسول اللہ علیہ نے فرمایا علی ! یہ عرب کا مشہور پہلوان عمر و بن عبدود ہے۔حضرت علی نے کہا پرواہ نہیں اور پھر بہادرانہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے بڑھے۔اس نے پوچھا تم کون ہو؟ کہا علی بن ابی طالب۔اس نے کہا تمہارے چچاؤں میں سے کوئی تم سے بڑا مقابلہ پر آتا تو بہتر تھا۔حضرت علیؓ نے مقابلہ پر آکر اسے مخاطب کر کے فرمایا کہ سنا ہے تم نے عہد کر رکھا ہے کہ اگر قریش میں سے کوئی شخص تمہیں دوباتوں میں سے ایک قبول کرنے کے لئے کہے تو تم ضرور اسے قبول کرو گے۔اس نے کہا ہاں۔حضرت علیؓ نے کہا تو پھر میں پہلے تمہیں قبول اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔اس نے کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔حضرت علیؓ نے کہا پھر آؤ مقابلہ کر لو۔وہ بولا۔بھتیجے! خدا کی قسم میں تمہیں قتل کرنا نہیں چاہتا۔حضرت علی نے کہا مگر میں تمہیں قتل کرنا چاہتا ہوں اس پر عمر و کو سخت طیش آیا وہ گھوڑے سے اتر کر حضرت علیؓ کے مقابلہ کے لئے بڑھا۔اس کی تلوار سے جیسے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔وہ غضبناک ہو کر حضرت علی پر لپکا۔وہ اپنی ڈھال کے ساتھ آگے بڑھے۔عمرو کی تلوار کا وار انہوں نے ڈھال سے روکا۔جو دوٹکڑے ہو کر رہ گئی۔حضرت علی کے سر میں کچھ زخم آیا۔انہوں نے عمرو کو کندھے پر تلوار ماری۔وہ بڑے زور سے کٹ کر زمین پر گر پڑا تو غبار اٹھی۔حضرت علی نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔رسول اللہ علیہ سمجھ گئے کہ انہوں نے دشمن کا کام تمام کر دیا ہے۔ان کی اس کامیابی پر رسول اللہ کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔حضرت عمر نے کہا اے علی ! اس پہلوان کی زرہ ہی اتار لیتے کہ وہ عرب کی بہترین زرہ استعمال کرتا تھا۔حضرت علیؓ نے کہا میرے مد مقابل کی پشت عریاں ہوگئی تھی جس کے بعد اس کی زرہ اتارتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہوئی۔معرکہ خندق میں عبدود کا قتل ہونا ایک بڑی زبردست کامیابی تھی جس کے نتیجے میں باقی حملہ آور مرعوب ہوئے اور بالآخر پسپا ہوئے۔قبائل یہود بنو نضیر اور بنوقریظہ کے اخراج اور ان کے حریف