سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 70 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 70

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ اول بلاٹنگ پیپر کے لکھتے جاتے۔نہ آپ کو اس کے نیچے کسی چیز کے رکھنے کی ضرورت ہوتی اور نہ خشک کرنے کے لئے کسی بلاٹنگ پیپر کی۔زمانہ بعثت سے پہلے آپ جب لکھتے تھے تو بہت سے کاغذات جو چھپے ہوئے ہوں اور کچھ حصہ ان کا سفید ہو ان پر لکھ لیا کرتے اور سیالکوٹی کا غذ استعمال کرتے تھے۔جب فرنچ پیپر فل سکیپ سائز کا جاری ہوا تو اکثر آپ اسی پر لکھتے۔اس وقت آپ دیسی کالی سیاہی اور واسطین کا قلم استعمال فرماتے تھے لیکن جب آپ مامور ہو گئے اور بیعت کا سلسلہ جاری ہو گیا اور انگریزی قلم عام ہو گئے اور بلیو بلیک سیاہی عام ہوگئی تو آپ نے لوہے کے قلم سے کام لینا شروع کیا۔سیاہی عام طور پر آپ سرخ رنگ کی استعمال فرماتے تھے اور اخیر عمر میں ٹیڑھے نب استعمال فرماتے تھے۔ایک زمانہ تک شمشیر قلم نب بھی آپ نے استعمال کئے ٹیڑھے نب کا رواج حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے دیا پھر یہی نب آپ کو پسند تھا۔تحریر کے وقت حضور کی عادت تھی کہ گنگناتے بھی جاتے تھے۔مضمون لکھ کر دوبارہ پڑھتے اور ہر دفعہ جب مضمون پر نظر ثانی کرتے تو اس میں اضافہ کرتے یہاں تک کہ کاپی اور پروف تک پر اضافہ کرتے جاتے اور آخری پروف تک بھی بعض اوقات ایزادی ہوتی رہتی تھی اس سے پایا جاتا ہے کہ آپ کے دماغ میں مضامین کی آمد کس زور سے تھی اور اس کا چشمہ کوئی دوسری ہستی تھی۔تحریر کے وقت یہ بھی آپ کی عادت شریف میں داخل تھا کہ اکثر شہل کر لکھا کرتے تھے اور اس مطلب کے لئے دو طرف دوات رکھ لیا کرتے تھے ٹہلتے بھی جاتے اور لکھتے بھی جاتے تھے۔بعض لوگوں کو آپ کی اس عادت پر تعجب بھی ہوا کہ ٹہل کر کتاب پڑھی تو جاتی ہے مگرلکھی نہیں جاتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی اس عادت کو خود جب ذکر فرماتے تھے تو یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مضامین چلتے پھرتے ہیں یعنی ان میں حس اور زندگی ہے۔مخطوط نویسی میں آپ کی عادت جب آپ اپنے کسی خادم کو خط لکھتے تو ہمیشہ آپ کی عادت میں داخل تھا کہ بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اور نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّی سے ابتدا کیا کرتے اور آپ کے خط میں القاب عام طور