سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 631
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۳۱ حالت میں زلزلہ کی صورت آنکھوں کے آگے آگئی۔اور پھر الہام ہوا۔رَبِّ أَخْرُ وَقْتَ هَذَا یعنی اے میرے خدا! یہ زلزلہ جو نظر کے سامنے ہے۔اس کا وقت کچھ پیچھے ڈال دے۔قاعدہ نحو کے مطابق ھذا کی جگہ ھذہ چاہیے تھا۔مگر اس جگہ ھذا سے مراد هذَا الْعَذَاب ہے۔کیونکہ اصل غرض تو عذاب سے ہے۔ورنہ زلزلے تو پہلے بھی آچکے ہیں۔پھر بعد اس کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔رَبِّ سَلِّطْنِي عَلَى النَّارِ یعنی اے میرے خدا! مجھے آگ پر مسلط کر دے۔یعنی ایسا کر کہ عذاب کی آگ میرے حکم میں ہو جاوے۔جس کو میں عذاب دینا چاہتا ہوں۔وہ عذاب میں گرفتار ہو۔اور جس کو میں چھوڑ نا چاہوں وہ عذاب سے محفوظ رہے۔( بدر جلد۲ نمبر ۱۳ مورخه ۲۹ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۔والحکم جلده انمبر اصفحہ۱) رَبِّ فَرِّقْ بَيْنَ صَادِقٍ وَّ كَاذِبٍ۔أَنْتَ تَرَى كُلَّ مُصْلِحٍ وَّ صَادِقٍ یعنی اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا۔تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے۔تذکره صفحه ۵۳۲ مطبوعه ۲۰۰۴ء) (۳۵) رَبِّ أَرِنِي أَنْوَارَكَ الْكُلِّيَّةَ ( تذکر صفحه ۵۳۴ مطبوعه ۲۰۰۴ء) (۳۶) ترجمہ۔اے میرے رب مجھے اپنے تمام انوار دکھا۔إِنِّي أَنَرْتُكَ وَاخْتَرْتُكَ - ترجمہ۔میں نے تجھے روشن کیا اور تجھے برگزیدہ کیا۔تذکر صفحه ۳۹۴ مطبوع ۲۰۰۴ء)