سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 38
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸ حصہ اول کرنے کا حکم دیا تھا اس کے لئے ایک ربڑ کی مہر الیس اللهُ بِكَافٍ عَبدہ کی بیضوی شکل کی بنوائی تھی چنانچہ آپ کتاب کے شروع کے صفحہ پر دستخط معہ تاریخ اپنی قلم سے فرماتے اور مہر بھی لگائی جاتی تھی اس کے متعلق ۲۰ ستمبر ۱۸۹۸ء کو آپ نے ایک اشتہار بھی شائع فرمایا تھا۔جو الحکم مورخہ ۲۰ تا ۲۷ رستمبر ۱۸۹۸ء میں طبع ہوا۔عصا آپ ہاتھ میں چھڑی رکھا کرتے تھے اور عام طور پر یہ چھڑی دستہ والی ہوتی تھی۔مختلف دستہ والی چھڑیاں آپ کے ہاتھ میں دیکھی گئی ہیں۔ایک چھڑی بھیرہ سے ایک دوست تیار کر کے لائے تھے جس پر سیپ کا کام کیا ہوا تھا اور اُس پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود لکھا ہوا تھا۔عصا کے متعلق یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ آپ ہمیشہ چھڑی ہاتھ میں لے کر باہر نکلا کرتے تھے اور آپ کی عادت شریف میں یہ بات بھی داخل تھی کہ آپ ہر قسم کی چھڑی استعمال کر لیتے لیکن یہ ضروری ہوتا تھا کہ وہ دستہ والی ہو۔انگریزی فیشن کی چھڑیاں جو نازک سی ہوتی ہیں کبھی آپ کے ہاتھ میں نہیں دیکھیں یعنی بہت سبک اور نازک نہیں بلکہ ہمیشہ کسی قدرموٹی اور مضبوط چھڑی جوعموماً بید کی ہوتی استعمال فرماتے تھے۔ڈانگ یا لٹھ کی صورت میں کبھی آپ نے استعمال نہیں فرمائی۔البتہ قبل بعثت بانس کے ڈھانگو کا استعمال کیا ہے کیونکہ اس وقت اس کا رواج تھا۔پھر جب مختلف قسم کی لکڑیوں کی چھڑیاں بن کر بازار میں آنے لگیں تو آپ نے استعمال فرمائیں۔کٹو اور بید کی لکڑی کی چھڑی عموماً آپ نے استعمال کی ہے۔باوجود اس کے کہ چھڑی ہمیشہ استعمال فرماتے تھے مگر آپ کی طبیعت میں استغراق اور توجہ الی اللہ اس قدر تھی کہ روز ہاتھ میں رہنے والی چیز کو بھی بعض وقت بھول جاتے تھے۔خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب نے ایک واقعہ بیان کیا ہے جس کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی سیرت المہدی جلد اول کے صفحہ ۲۲۷ میں لکھا ہے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا۔ایک دن حضرت صاحب