سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 427
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۷ کرنا چاہا۔مگر اس نے پرواہ نہ کی۔حضرت نے ان کو فرمایا کہ آپ اسے کچھ نہ کہیں کہنے دیجیے۔آخر وہ خود ہی بکواس کر کے تھک گیا۔اور اٹھ کر چلا گیا۔برہمولیڈ ر بے حد متاثر ہوا اور اس نے کہا کہ یہ آپ کا بہت بڑا اخلاقی معجزہ ہے۔اس وقت حضور اسے چپ کراسکتے تھے اپنے مکان سے نکال سکتے تھے۔اور بکواس کرنے پر آپ کے ایک ادنی اشارہ سے اس کی زبان کائی جاسکتی تھی۔مگر آپ نے اپنے کامل حلم اور ضبط نفس کا عملی ثبوت دیا۔میر عباس علی صاحب کی شوخی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ضبط میر عباس علی صاحب کے نام سے سلسلہ میں نئے آنے والے لوگ بہت ہی کم واقف ہو سکتے ہیں۔میر صاحب ایک انگریزی خواں اور ہانہ کے صوفی تھی۔اور شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نہایت محبت اور اخلاص کا دعویٰ رکھتے تھے۔براہین احمدیہ کی اشاعت میں انہوں نے بہت محنت کی مگر دعوائے مسیحیت کے ساتھ ان کو بدظنی ہوئی۔اور کوئی پنہانی معصیت انہیں انکار و تکذیب کی طرف لے گئی۔جالندھر کے مقام پر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور بیٹھے ہوئے اعتراضات کر رہے تھے۔حضرت مخدوم الملت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔اور مجھے خود انہوں نے ہی یہ واقعہ سنایا۔مولانا نے فرمایا کہ میں دیکھتا تھا۔کہ میر عباس علی صاحب ایک اعتراض کرتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت شفقت و رافت اور نرمی سے اس کا جواب دیتے تھے اور جوں جوں حضرت صاحب اپنے جواب اور طریق خطاب میں نرمی اور محبت کا پہلو اختیار کرتے میر صاحب کا جواب بڑھتا جاتا یہاں تک کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی اور بے ادبی پر اتر آیا اور تمام تعلقات دیرینہ اور شرافت کے پہلوؤں کو ترک کر کے تو تو میں میں پر آ گیا۔میں دیکھتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حالت میں اسے یہی فرماتے۔جناب میر صاحب آپ میرے