سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 426 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 426

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۶ وہ پھر پیچھے آیا اور مکان کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی تقریر کرتا رہا۔مگر حضرت بار بار تا کید فرماتے تھے کہ اس کو کچھ نہ کہا جاوے صبر کرنا چاہیے۔میں جانتا ہوں کہ یہ محض حضور کی قوت قدسی کا اثر تھا۔ورنہ اس وقت خدام میں ایسا جوش تھا کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔اس واقعہ کی نوعیت پر غور کرو۔ایک شارع عام پر ایک شخص مجنونانہ حملہ کرتا ہے اور زبانی ایذارسانی کا کوئی دقیقہ باقی نہیں دیتا۔حضرت کو اس وقت پوری قدرت اور طاقت حاصل ہے کہ اس سے انتقام لیں اور اس کو اپنی شرارت کا مزہ چکھانے کے لئے خدام اپنی جان کی قیمت دینے کو تیار ہیں۔اور اگر اس قسم کا کوئی عمل بھی نہ ہوتا تب بھی اس کو قانونی سلوک سے سزا دلائی جاسکتی تھی۔مگر حضرت نے اس کی اس مجنونانہ حرکت پر کچھ بھی نوٹس نہ لیا۔اور اپنے جذبات رحمت و شفقت کا نمونہ دکھایا۔اور کامل حوصلہ اور حلم سے اس ساری تکلیف کو پی گئے۔ایک دنیا دار سر بازار اپنے اوپر اس قسم کا حملہ دیکھ کر خدا جانے کیا کر گزرتا۔وہ اپنی عزت و آبرو اپنے درجہ اور مقام کے بتوں کو دیکھتا ہوا مر جاتا۔اور جوش میں جو جائز ہوتا اندھا ہو جاتا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس واقعہ پر سے ایسے گزر گئے کہ گویا کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ایک بد زبان بھری مجلس میں پھر اسی محبوب رائیوں والے مکان کا واقعہ ہے۔ایک جلسہ میں جہاں تک مجھے یاد ہے ایک برہمو لیڈر ( غالباً انباش موز مدار با بو تھے ) حضرت سے کچھ استفسار کر رہے تھے۔اور حضرت جواب دیتے تھے۔اسی اثناء میں ایک بد زبان مخالف آیا۔اور اس نے حضرت کے بالمقابل نہایت دل آزار اور گندے حملے آپ پر کئے۔وہ نظارہ میرے اس وقت بھی سامنے ہے۔آپ منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے جیسا کہ اکثر آپ کا معمول تھا۔کہ پگڑی کے شملہ کا ایک حصہ منہ پر رکھ کر یا بعض اوقات صرف ہاتھ رکھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔خاموش بیٹھے رہے اور وہ شور پشت بکتا رہا۔آپ اس طرح پر مست اور مگن بیٹھے تھے کہ گویا کچھ ہونہیں رہا۔یا کوئی نہایت ہی شیریں مقال گفتگو کر رہا ہے۔برہمولیڈر نے اسے منع