سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 420 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 420

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۰ کر دیتا اور اصل کام کی راہ میں ایک ہرج واقعہ ہو جاتا ہے۔مگر حضرت کے حوصلہ اور ضبط نفس کا یہ عجیب نمونہ تھا کہ ان باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔عجب سکون اور جمعیت باطن اور فوق العادت وقار اور حلم ہے کہ کیسا ہی شور اور غلغلہ برپا ہو جائے جو عموماً قلوب کو پر کاہ کی طرح اڑا دیتا اور شور اور جائے شور کی طرف خوانخواہ کھینچ لاتا ہے حضرت اسے ذرہ بھر بھی محسوس نہیں کرتے اور مشوش الاوقات نہیں ہوتے۔یہی ایک حالت ہے جس کے لئے اہل مذاق تڑپتے اور سالک ہزار دست و پا مارتے اور رو رو کر خدا سے چاہتے ہیں۔میں نے بہت سے قابل مصنفوں اور لائق محرروں کو سنا اور دیکھا ہے کہ کمرہ میں بیٹھے کچھ سوچ رہے ہیں یا لکھ رہے ہیں اور ایک چڑیا اندر گھس آئی ہے اس کی چڑ چڑ سے اس قدر حواس باختہ اور سراسیمہ ہوئے ہیں کہ تفکر مون سب نقش بر آب ہو گیا اور اسے مارنے نکالنے کو یوں لیکے ہیں جیسے کوئی شیر اور چیتا پر حملہ کرتا یا سخت اشتعال دینے والے دشمن پر پڑتا ہے۔ایک بڑے بزرگ صوفی صاحب یا قاضی صاحب کی بڑی صفت ان کے پیرو جب کرتے ہیں یہی کرتے ہیں کہ وہ بڑے نازک طبع ہیں اور جلد برہم ہو جاتے ہیں اور تھوڑی دیر آدمی ان کے پاس بیٹھے تو گھبرا جاتے ہیں اور خود بھی فرماتے ہیں کہ میری جان پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔مدت ہوئی ایک مقام پر میں خود انہیں دیکھنے گیا شاید دس منٹ سے زیادہ میں نہ بیٹھا ہوں گا جو آپ مجھ سے فرماتے ہیں کچھ اور کام بھی ہے۔اس میں شک نہیں کہ یہی جمعیت قلب اور کوہ وقاری اور حلم اکسیر ہے جس میں ہو اور یہی صفت ہے جس سے اولیاء اللہ مخصوص اور ممتاز کئے گئے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ حضرت اقدس نازک سے نازک مضمون لکھ رہے ہیں یہاں تک کہ عربی زبان میں بے مثل فصیح کرتا ہیں لکھ رہے ہیں اور پاس ہنگامہ ء قیامت برپا ہے بے تمیز بچے اور سادہ عورتیں جھگڑ رہی ہیں، چیخ رہی ہیں، چلا رہی ہیں، یہاں تک کہ بعض آپس میں دست وگریبان ہو رہی ہیں اور پوری زنانہ کرتو تیں کر رہی ہیں۔مگر