سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 419
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۹ پایا اور بے سوچے سمجھے ( در حقیقت اُن دنوں الہیات میں میری معرفت ہنوز بہت سا درس چاہتی تھی ) بوڑھے صوفی اور عبد اللہ غزنوی کی صحبت کے تربیت یافتہ تجربہ کار کی تائید میں بول اٹھا کہ ہاں حضرت ہمنشی صاحب درست فرماتے ہیں۔حضور کو بھی چاہیے که درشتی سے یہ امر منوائیں۔حضرت نے میری طرف دیکھا اور تبسم سے فرمایا۔”ہمارے دوستوں کو تو ایسے اخلاق سے پر ہیز کرنا چاہیے۔“ 66 اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے میں زکی الیس آدمی اور ان دنوں تک عزت و بے عزتی کو دنیا داروں کی عرفی اصطلاح کے قالب میں ڈھالنے اور اپنے تئیں ہر بات میں کچھ سمجھنے اور ماننے والا بس خدا ہی خوب جانتا ہے کہ میں اُس مجمع میں کس قدر شرمندہ ہوا۔اور مجھے سخت افسوس ہوا کہ کیوں میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی بوڑھے تجربہ کار نرم خو صوفی کی پیروی کی۔برادران ! اس ذکر سے جسے میں نے نیک نیتی سے لکھا ہے میری غرض یہ ہے کہ اس انسان میں جو مجبور پاکیزہ فطرت اور حقوق کا ادا کرنے والا اور اخلاق فاضلہ کا معلم ہو کر آیا ہے اور دوسرے لوگوں میں جنہیں نفس نے مغالطہ دے رکھا ہے کہ وہ بھی کسی کی صحبت میں کوئی گھائی طے کر چکے ہیں اور ہنوز وہی اخلاق سے ذرہ بھی حصہ نہیں لیا بڑا فرق ہے۔“ سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفر ۱۴ تا ۱۶) شور و شر کرنے والوں کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ ادھر توجہ ہی نہ ہوتی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو منصب لیکر مبعوث ہوئے تھے اس کا اقتضا تھا کہ آپ ہر وقت تبلیغ اور تلقین کے کام میں لگے رہیں۔اور اس مقصد کے لئے آپ کو عموماً تحریر کا کام کرنا پڑتا تھا۔یہ کام بھی ظاہر ہے کہ ایک سکون اور خلوت چاہتا ہے۔اس میں کسی قسم کا شور وغل طبیعت کو دوسری طرف متوجہ