سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 396
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۶ بھی حسب معمول دال پیش کی گئی۔مولوی محمد علی صاحب کی نظر میں ہمارا یہ جرم نا قابل عفو تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور مفتی فضل الرحمن کی شکایت ہوئی کہ انہوں نے خواجہ صاحب کو دال دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حقیقت معلوم تھی آپ نے فرمایا کہ میرے حکم سے ایسا ہوا ہے اور سب کو دال دی گئی ہے۔ایسا ہی ایک دوسرے موقعہ پر حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب والے مکان میں کھانے کا انتظام ہم کر رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اوپر سے خود نگرانی فرماتے تھے۔جناب مولوی غلام حسن صاحب پشاوری ( جو حضرت صاحبزادہ صاحب کے خسر ہیں ) کے لئے ہم نے چاہا کہ خاص انتظام کریں اور ان کے لئے پلاؤ وغیرہ پکوانے کا انتظام کیا اور حضرت کی خدمت میں اس رشتہ کے تعلق کی وجہ سے خاص انتظام کرنے کا باعث پیش کیا۔مگر حضور نے پسند نہ فرمایا اور فرمایا کہ اس وقت یہ نہایت نا مناسب ہے وہ سب کی طرح مہمان ہیں جو سب کو ملے گا وہی ان کو دیا جائے گا۔“ غرض کسی ایسے مرحلے اور موقعہ پر حضور ایسا امتیاز جائز نہ رکھتے۔ہاں جب کبھی خاص طور پر کوئی شخص آتا یعنی سالانہ جلسہ یا کسی ایسی ہی تقریب کے سوا آتا تو حضرت ان کی ضرورتوں کا خاص طور پر بھی لحاظ رکھتے لیکن دستر خوان پر سب کو ایک ہی قسم کا کھانا ملتا۔اگر فرق ہوتا تو صرف ایسا کہ مثلاً ایک شخص صرف چاول کھاتا ہے اور روٹی کھانے کا عادی نہیں تو اس کے لئے چاول ہی آتے۔اس امر کا حضرت مسیح موعود" خاص طور پر التزام فرماتے اور لحاظ رکھتے جیسا کہ میں اکرام ضیف کے باب میں بیان کر آیا ہوں۔ایسے امتیازات جو دوسروں کی حقارت یا دل شکنی کا موجب ہوں یا اصول مساوات کے خلاف ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام سلوک میں کبھی جائز نہ سمجھتے تھے۔اور نہ آپ نے ان کو رائج ہونے دیا۔