سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 295 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 295

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ دریافت فرمایا کہ شیخ محمد نصیب صاحب کو کیا تنخواہ ملتی ہے۔جب آپ کو معلوم ہوا کہ صرف بارہ روپے ملتے ہیں تو آپ نے محسوس فرمایا کہ اس قدر قلیل تنخواہ میں شاید گزارہ نہ ہوتا ہو۔اگر چہ وہ ارزانی کے ایام تھے لیکن حضرت اقدس کو یہ احساس ہوا اور آپ نے ایک روز گزرتے ہوئے ان کے کمرہ میں ہیں پچیس روپے کی پوٹلی پھینک دی۔شیخ صاحب کو خیال گزرا کہ معلوم نہیں یہ روپیہ کیسا ہے۔آخر یہ معلوم ہوا کہ حضرت اقدس نے ان کی تنگی کا احساس کر کے رکھ دیا ہے تا کہ تکلیف نہ ہو اور آرام سے گزارہ کر لیں۔چنانچہ انہوں نے اس روپیہ کوزیور بنانے میں خرچ کیا کیونکہ اس وقت ان کی کھانے پینے کی ضروریات حضرت کے وسیع دستر خوان سے پوری ہو جاتی تھیں۔مجھے افسوس ہے کہ ایسے محسن کے شہر کو چھوڑ کر اب وہ لاہور چلے گئے ہیں اور جس اولوالعزم بیٹے کی خدمت کی بدولت ان کو یہ سعادت نصیب ہوئی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود کے دار میں ایک وقت رہنے کا موقع پاچکے تھے اس سے قطع تعلق ہوا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔رَبَّنَا لَا تُزِعُ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ایک سکھ کو جو دشمن تھا قیمتی مشک دے دیا قادیان میں نہال سنگھ نامی ایک بانگر وجٹ رہتا تھا۔اپنے ایام جوانی میں وہ کسی فوج میں ملازم بھی رہا تھا اور پنشن پاتا تھا۔اس کا گھر جناب خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب کے دیوان خانہ سے دیوار بدیوار ہے۔یہ سلسلہ کا بہت بڑا دشمن تھا۔اور اس کی تحریک سے حضرت حکیم الامت اور بعض دوسرے احمدیوں پر ایک خطر ناک فوجداری جھوٹا مقدمہ دائر ہوا تھا۔اور ہمیشہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر احمد یوں کو تنگ کیا کرتا تھا۔اور گالیاں دیتے رہنا تو ایک معمول تھا۔عین ان ایام میں جب کہ مقدمات دائر تھے اس کے بھتیجے سنتا سنگھ کی بیوی کے لئے مشک کی ضرورت پڑی اور کسی دوسری جگہ سے یہی نہیں کہ مشک ملتا نہ تھا بلکہ یہ بہت قیمتی چیز تھی۔وہ اس حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دروازہ پر گیا اور مشک کا سوال کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے پکارنے پر فورا ہی تشریف لے آئے تھے اور اسے ذرا بھی انتظار میں نہ رکھا۔اس کا سوال