سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 294
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۴ اکثر لوگ اس قسم کے سائل بھی آجاتے جو عام طور پر سوال نہ کرتے مگر رقعہ لکھ کر دیتے اور کسی کو یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ اس نے سوال کیا ہے لیکن جب حضرت اقدس اندر سے سائل کے لئے کچھ بھیجتے تو پتہ لگتا یا کبھی اندر تشریف لے جاتے وقت کہہ جاتے کہ تم بیٹھو میں آتا ہوں اور بعض لوگ اس خیال سے ٹھہر جاتے کہ حضرت صاحب آئیں گے تو معلوم ہوتا کہ آپ سائل کے لئے اس کی مطلوبہ چیز نقدی یا کپڑا لے کر آ رہے ہیں۔مخفی عطا کا ایک عجیب واقعہ میں نے بتایا ہے کہ آپ کی عام عادت یہ تھی کہ جو کچھ کسی کو دیتے تھے وہ کسی نمائش کے لئے نہ ہوتا تھا بلکہ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اور شفقت علی خلق اللہ کے نقطہ ء خیال سے اور اس لئے عام طور پر آپ نہایت مخفی طریقوں سے یہ عطا فرماتے تھے اور کبھی دوسروں کو تحریک کرنے کے لئے اور عملی سبق دینے کے واسطے علانیہ بھی کرتے تھے۔مخفی طور پر عطا کرنے میں آپ کا یہ بھی ایک طریق تھا کہ بعض اوقات ایسے طور پر دیتے تھے کہ خود لینے والے کو بھی بمشکل علم ہوتا تھا۔اس سلسلہ میں میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔منشی محمد نصیب صاحب ( جو آج کل قادیان سے قطع تعلق کر چکے ہیں ) ایک یتیم کی حیثیت سے قادیان آئے تھے اور حضرت اقدس کے رحم و کرم سے انہوں نے قادیان میں رہ کر تعلیم پائی۔ان کے اخراجات اور ضروریات کا سارا بارسلسلہ پر تھا۔جب وہ جوان ہو گئے اور انہوں نے شادی کر لی تو وہ لاہور ایک اخبار کے دفتر میں محتر رہوئے اور پھر دفتر بدر قادیان میں آکر بارہ روپے ماہ وار پر ملازم ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو جب اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا بیٹا نصیر احمد ( اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا ) عطا فرمایا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مرحوم نصیر احمد صاحب کے لئے ایک ان کی ضرورت پیش آئی میں نے شیخ محمد نصیب صاحب کو تحریک کی کہ ایسے موقع پر تم اپنی بیوی کی خدمات پیش کر دو۔ہم خرما وہم ثواب کا موقع ہے۔میرے مشورہ کو شیخ صاحب نے قد روعزت کی نظر سے دیکھا اور ان کو یہ موقعہ مل گیا اور ان کی بیوی صاحبزادہ نصیر احمد صاحب کو دودھ پلانے پر مامور ہوگئیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باتوں ہی باتوں میں