سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 280 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 280

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۰ اس شوق و ذوق سے پڑے رہتے کہ دیکھنے والا آپ کو ایسی حالت میں بیمار نہ سمجھتا۔آپ کے کام آپ کے کلام اور آپ کے عزم سے اس بات کا سمجھنا محال ہو گیا تھا۔آخری حصہ تو عموماً بیماری میں ہی گزرا ہے اور جیسا کہ میں او پر لکھ آیا ہوں تمام بڑی بڑی تصانیف بیماری ہی میں لکھی گئی ہیں بلکہ ایام بیماری میں آپ کا قلم تیز ہو جاتا تھا۔آپ سمجھتے تھے کہ شاید وقت قریب آ گیا ہے اس لئے جس قدر کام ہو سکے وہ کم ہے۔جس طرح اپنی بیماری میں آپ کی یہ حالت تھی متعلقین اور دوسروں کی تیمار داری میں بھی آپ کا استقلال اور اطمینان ایک اعجازی حیثیت رکھتا تھا۔ایک طرف بیمار کا چڑ چڑا پن اس کی تکلیف اور دواؤں کی بدمزگی سے نفرت ہے دوسری طرف اپنی بے آرامی اس کے علاج میں مصروفیت اس کی نگہداشت اور سلسلہ کے کاموں میں مصروفیت مزید برآں ہے۔مگر یہ تمام بے آرامیاں تمام کوفتیں اس طرح سے گزار لیتے کہ گویا کوئی واقعہ ہے ہی نہیں۔یہ سب کچھ انسانی ہمدردی اور تعظیم لامر اللہ کی بنا پر تھا۔بیماری اور تیمار داری دونوں حالتوں میں یہ شیر خدا ایک جنت کی حالت میں تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔اگر موت فوت کا کوئی واقعہ ہو جاتا تو وہ حالت بھی آپ کی حالت میں تغییر پیدا نہ کرتی۔بیماری کی حالت میں وہ شکور تھا اور موت فوت کی حالت میں راضی بالقضا تھا۔اس کی زندگی میں کوئی لمحہ ایسا نہ آتا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ سے اپنے قرب اور صدق اور وفا کے مقام کو آگے نہ پاتا ہو۔میں آگے چل کر آپ کا نمونہ رضا بالقضا کا انشاء اللہ دکھاؤں گا۔شاید اس جگہ بعض بیماریوں کے نسخے آپ کے بیان کردہ لکھ لینے مناسب سمجھے جاتے۔مگر سیرت کے مضمون سے ان کا کچھ تعلق نہیں اس لئے اگر توفیق ملی تو آپ کی طب کا بیان کرتے ہوئے انشاء اللہ درج کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو اخلاق بیماری اور تیمار داری میں ظاہر ہوئے ہیں واقعات کے لحاظ سے وہ کثیر التعداد ہیں۔اور یہ بھی آسان نہیں کہ اخلاقی اعجاز اور اعجاز مسیحائی میں فرق کیا جاسکے۔یعنی جو نشانات آپ کی دعاؤں سے بیماروں کی صحت و شفا کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں وہ بھی کثیر التعداد ہیں۔مگر میں ان کو عام طور پر آپ کے اعجازات کی تفصیل میں کہوں گا۔یہاں میں