سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 279 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 279

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۹ سے بھی اکتا جاتا ہے آپ ایک لمبے عرصہ تک اس کی تیمار داری میں مصروف رہے اور نہ صرف خود بلکہ سب گھر والوں کو اس کے متعلق خاص طور پر ہدایات تھیں۔اس کے آرام اور علاج میں کوئی کمی نہ کی جاوے۔یتیم پروری اور تیمارداری کی یہ بہترین مثال ہے۔آپ کے صاحبزادے اکثر بیمار ہو جاتے ان کے علاج معالجہ اور دوا در من میں راتوں کو دن کر دینا معمولی بات ہوتی تھی۔حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) کی آنکھیں بیمار تھیں آپ اس کے علاج کے لئے بٹالہ تشریف لے گئے اور ساری ساری رات خود ٹہلتے رہتے اور ان کو بہلاتے۔مگر کبھی شکایت نہ کی۔ہم نے اپنے گھروں میں دیکھا ہے کہ بیماری ذرا لمبی ہوئی یا کسی کو زیادہ وقت تک کسی بیمار کے پاس رہنا پڑا تو گھبرا کر ایسے الفاظ منہ سے نکال دیتے ہیں جو قابل افسوس ہوتے ہیں مگر حضرت کو دیکھا گیا کہ بعض اوقات مہینوں تیمارداری کرنی پڑی ہے اور ساری ساری رات اور دن بھر اس کوفت میں رہے ہیں مگر زبان سے کوئی لفظ شکوہ کا نہیں نکلا پوری مستعدی کے ساتھ اس میں لگے رہے۔تیمار داری میں گھبراہٹ اور بیمار کی حالت اور چڑ چڑاہٹ سے آپ کو رنج نہ پیدا ہوتا تھا اور نہ اس کی حالت کے کسی مرحلہ پر نازک ہو جانے سے کوئی مایوسی ظاہر ہوتی تھی۔مایوسی تو کبھی اور کسی حال میں آپ کے نزدیک آ ہی نہیں سکتی بلکہ خطر ناک حالتوں میں بھی آپ کے چہرہ کو دیکھ کر حد درجہ کا نا امید اور کمزور طبیعت کا انسان ایک قوت اور امید کی شعاع اپنے اندر پیدا کر لیتا تھا۔غرض نہ تو اپنی بیماری میں گھبراہٹ اور چڑ چڑا پن آپ میں ہوتا تھا۔ایک سکون اور اطمینان سے بیٹھے رہتے تھے اور ادویات کے استعمال سے جی نہ چراتے۔کیسی ہی تلخ اور بد مزا دوائی ہو بغیر منہ بنانے اور ذرا بھی تامل کرنے کے پی لیتے تھے اور اوپر والوں کو اپنی تیمارداری کے لئے کوئی تکلیف نہ دیتے۔طبیعت میں استقامت اور عزم اور قوت اس حالت میں بھی پاتے تھے جبکہ اسہال کی کثرت یا دوران سر اور بَردِ اطراف کے دورے نے نقاہت اور ضعف پیدا کر دیا ہو۔بعض اوقات بیماریوں کے لمبے دورے میں عام طور پر خود مریض بھی جان سے بیزار ہو جا تا اور گھبرا جاتا ہے۔آپ بیماری میں بھی