سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 167
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا السلام ۱۶۷ اس دریچہ کے پاس بیٹھ گیا جہاں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے تشریف لایا کرتے تھے حضرت مولوی صاحب بڑھے اور مجھے پکڑ کر حضرت صاحب کے سامنے کر دیا۔میرے مرض کے متعلق صرف اتنا کہا کہ بہت خطرناک ہے میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود کا چہرہ ہمدردی سے بھرا ہوا تھا۔مجھ سے حضور نے دریافت کیا کہ یہ تکلیف آپ کو کب سے ہے۔میں تیرہ ماہ سے اس دکھ میں مبتلا تھا۔لوگ آرام کی نیند سویا کرتے تھے لیکن مجھے درد چین نہیں لینے دیتی تھی اس لئے میں اپنے مکان کے بالا خانہ میں ٹہلا کرتا تھا اور میرے اردگردسونے والے خواب راحت میں پڑے ہوتے تھے۔میں نے مہینوں راتیں رو کر اور ٹہل کر کاٹی ہوئی تھیں۔حضرت کے ان ہمدردانہ و محبت انگیز کلمات نے چشم پر آب کر دیا۔شکل تو دیکھ چکا تھا۔اتنے بڑے انسان کا مجھ ناچیز کو آپ کے لفظ محبت آمیز و کمال ہمدردانہ لہجہ میں مخاطب کرنا ایک بجلی کا اثر رکھتا تھا۔میں اپنی بساط کو جانتا تھا میری حالت یہ تھی۔محض ایک لڑکا میلے اور پرانے دریده وضع کپڑے، چھوٹے درجہ و چھوٹی قوم کا آدمی میرے منہ سے لفظ نہ نکلا سوائے اس کے کہ آنسو جاری ہو گئے۔حضرت نے یہ حالت دیکھ کر سوال نہ دہرایا مجھے کہا کہ میں تمہارے لئے دعا کروں گا فکر مت کرو۔انشاء اللہ اچھے ہو جاؤ گے“۔مجھے اس وقت اطمینان ہو گیا کہ اب اچھا ہو جاؤں گا۔پھر میں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں آیا تو صرف آپ نے ذرہ بھر خوراک جدوار کی میرے لئے تجویز فرمائی اور اتنی مقدار مجھے کہا کہ پتھر پر گھس کر اس ناسور پر لگا دیا کروں تھوڑے ہی عرصہ میں مجھے افاقہ ہو گیا اور ایک مہینہ میں میں اچھا ہو گیا۔یہ پہلا واقعہ ہے کہ مجھے حضرت سے ملنے کا اتفاق ہوا اور میری خوش قسمتی مجھے بیمار کر کے قادیان میں لے آئی۔چنانچہ میں نے وطن کو خیر باد کہہ کر قادیان کی رہائش اختیار کر لی۔اس کے بعد میری شامت اعمال مجھ پر پھر سوار ہوئی حضرت نے لکھا کہ جو شخص سچے دل اور پورے اخلاص کے ساتھ تقویٰ کی