سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 166 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 166

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۶ سے بھاگنے لگے تھے اپنے ایک بھائی کی عیادت و خبر گیری میں وہ کمال ایثار وقربانی کا دکھایا کہ جسے تک کوئی پاک روح کسی کے قلب کو ہر قسم کے خطرات ووساوس سے پاک نہ کر دے یہ کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔حضرت اقدس روزانہ دو تین مرتبہ خاص طور پر مولوی محمد دین صاحب کی خبر منگواتے اور اپنے ہاتھ سے دوائی تیار کر کے بھیجتے۔یہ تو اسباب کے ماتحت آپ کی عملی زندگی تھی۔اس کے ساتھ آپ نے ان کے لئے جو دعائیں کی ہوں گی ان کا اندازہ مشکل سے ہوسکتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی صاحب اس حملہ میں محفوظ رہے اور خدا تعالیٰ نے اُن کو سلسلہ کا ایک مفید و مخلص خادم بنایا۔یہ اخلاقی اعجاز انہوں نے اور پاس والوں نے اپنی آنکھ سے دیکھا اور دیکھنے والوں کو اب تک یاد ہے مولوی صاحب نے خود اپنے واقعہ کو نہایت مختصر الفاظ میں لکھا ہے اور یہ ذاتی شہادت ہے جو بہت ہی موثر اور موقر ہوتی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں۔۱۹۰۱ء میں میں سخت بیمار ہو گیا قریباً ایک سال سے زائد عرصہ تک ڈاکٹروں اور حکیموں کا علاج کرانا پڑا لیکن مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ان دنوں میں حضرت مسیح موعود کی کتب کا مطالعہ کر رہا تھا۔مجھے میرے مکرم و معظم و حسن بزرگ منشی تاج الدین صاحب مرحوم پنشنرا کا ؤنٹنٹ نے قادیان آنے کا مشورہ دیا۔مجھے سٹیشن پر آ کر گاڑی میں خود سوار کر کے گئے۔میں قادیان پہنچا اور پہلے پہل میں نے حضرت مسیح موعود کو جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا میری طبیعت نے فیصلہ کر لیا کہ یہ منہ تو جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔بعد میں حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی بیماری کا حال سنایا۔آپ نے میرا ناسور دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا اس کا رخ دل کی طرف ہو گیا ہے۔مجھے فرمایا کہ اس کے لئے دوا کی نسبت دعا کی ضرورت زیادہ ہے۔مجھے بتلایا کہ مسجد مبارک میں ایک خاص جگہ بیٹھنا میں خود تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاؤں گا اور تمہارے متعلق دعا کے لئے عرض کروں گا۔میں