سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 163 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 163

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۳ ایک غیر احمدی کی عیادت میں ایفائے عہد کی شان بھی جلوہ نما ہے اگست ۱۹۰۲ء میں ایک قریشی صاحب بہار ہو کر دار الامان میں حضرت حکیم الامت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ سے علاج کرانے کے لئے آئے۔انہوں نے متعدد مرتبہ حضرت کے حضور دعا کے لئے عرض کی۔حضور نے دعا کا وعدہ فرمایا۔۱۰ / اگست ۱۹۰۲ء کی شام کو اس نے حضرت اقدس کی خدمت میں بتوسط حضرت حکیم الامت عرض کیا کہ میں آپ کی زیارت کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہوں مگر پاؤں کے متورم ہونے کی وجہ سے حاضر نہیں ہوسکتا۔آپ نے خود اس کے مکان پر ۱۱ راگست ۱۹۰۲ء کو جانے کا وعدہ فرمایا۔چنانچہ جب حسب معمول سیر کو نکلے تو خدام کے حلقہ میں وہ اس کے مکان پر پہنچے تا کہ عیادت بھی ہو جاوے اور جو وعدہ خود آنے کا کیا تھا وہ بھی پورا ہو جائے۔قریشی صاحب اس وقت اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں آج کل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی نشست گاہ سے اندر جانے کی ڈیوڑھی ہے۔یہ مکان جیون سنگھ جھیو رکا کہلا تا تھا۔جس کو خاکسار عرفانی نے خدا کے فضل سے خرید کر ہبہ کرنے کی توفیق پائی۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذالك - حضرت اقدس اس مریض کے پاس تشریف لے گئے اور بطور عیادت استفسار مرض و دیگر حالات کرتے رہے اور آخر میں آپ نے اس کو مناسب طور پر تبلیغ فرمائی۔جوان ہی ایام میں الحکم میں طبع ہو گئی تھی جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے کہ یہ واقعہ حضرت کے ایفائے عہد کی شان کو بھی لئے ہوئے ہے۔میر حامد کی عیادت مهر حامد قادیان کے ارائیوں میں پہلا آدمی تھا جو حضرت مسیح موعود کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوا اور اب تک اس کا خاندان خدا کے فضل سے مخلص احمدی ہے۔مہر حامد علی نہایت غریب مزاج تھا اس کا مکان فصیل قادیان سے باہر اس جگہ واقع تھا جہاں گاؤں کا کوڑا کرکٹ اور روڑیاں جمع ہوتی