سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 144 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 144

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۴ حصّہ اوّل ایک مرتبہ سید محمد رضوی صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد دکن حیدر آباد سے ایک جماعت لے کر آئے۔سید صاحب ان ایام میں ایک خاص جوش اور اخلاص رکھتے تھے۔حیدرآبادی لوگ عموماً ترش سالن کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔آپ نے خاص طور پر حکم دیا کہ ان کے لئے مختلف قسم کے کھٹے سالن تیار ہوا کریں تا کہ ان کو تکلیف نہ ہو۔ایسا ہی سیٹھ اسماعیل آدم بمبئی سے آئے تو ان کے لئے بلا ناغہ دونوں وقت پلاؤ اور مختلف قسم کے چاول تیار ہوتے تھے۔کیونکہ وہ عموماً چاول کھانے کے عادی تھے۔مخدومی حضرت سیٹھ عبد الرحمان صاحب مدراسی رضی اللہ عنہ بھی ان ایام میں قادیان میں ہی تھے۔غرض آپ اس امر کا التزام کیا کرتے تھے کہ مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف کھانے پینے میں نہ ہو۔(۲) یہ امر بھی آپ کی مہمان نوازی کے عام اصولوں میں داخل تھا کہ جس وقت کوئی مہمان آتا تھا اسی وقت اس کے لئے موسم کے لحاظ سے چاء یاکسی یا شربت مہیا کرتے اور اس کے بعد کھانے کا فوری انتظام ہوتا تھا اور اگر جلد تیار نہ ہو سکتا ہو یا موجود نہ ہوتو دودھ ڈبل روٹی یا اور نرم غذا فواکہات غرض کچھ نہ کچھ فوراً موجود کیا جاتا اور اس کے لئے کوئی انتظار آپ روا نہ رکھتے۔بعض اوقات دریافت فرما لیتے اور بعض اوقات کھانا ہی موجود کرتے۔ایسے واقعات ایک دو نہیں سینکڑوں سے گزر کر ہزاروں تک ان کا نمبر پہنچتا ہے۔جناب قاضی امیرحسین صاحب بھیروی جو عرصہ دراز سے ہجرت کر کے قادیان بیٹھے ہوئے ہیں ایک زمانہ میں امرتسر کے مدرستہ المسلمین میں ملازم تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں امرتسر سے قادیان میں آیا اور حضرت صاحب کو اطلاع دی۔آپ فوراً تشریف لائے اور شیخ حامد علی صاحب کو بلا کر حکم دیا کہ قاضی صاحب کے لئے جلد چائے لاؤ۔یہ ایک واقعہ نہیں علی العموم ایسا ہی ہوتا تھا۔(۳) آپ کی مہمان نوازی کی تیسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ مہمان کے جلدی واپس جانے سے خوش نہ ہوتے تھے بلکہ آپ کی خواہش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ وہ زیادہ دیر تک رہے۔تا کہ پورے طور پر اس کے سفر کا مقصد پورا اور آپ کی دعوت کی تبلیغ ہو سکے۔اس لئے جلد اجازت نہ دیتے تھے