سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 143
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۳ حصہ اول آپ نے کیوں حضرت کو تکلیف دی۔میری طبیعت اب اچھی ہے۔خیر میں ان کو حضرت کے پاس لے گیا اور میاں نجم الدین صاحب کی بھی حاضری ہوئی۔حضرت نے میاں رحمت اللہ صاحب سے بہت عذر کیا کہ بڑی غلطی ہو گئی۔آپ کو تکلف نہیں کرنا چاہیے تھا۔میں باغ میں تھا اور نہ تکلیف نہ ہوتی۔اب انشاء اللہ انتظام ہو گیا ہے۔جس قدر حضرت عذر اور دلجوئی کریں میں اور میاں رحمت اللہ اندر ہی اندر نادم ہوں اور پھر جتنے دن وہ رہے حضرت نے روزانہ مجھ سے دریافت فرمایا کہ تکلیف تو نہیں۔میاں نجم الدین صاحب کو بھی بہت تاکید اور وعظ فرمایا کہ یہ خدا تعالیٰ کے مہمان ہیں یہ خدا کے لئے آتے ہیں اور گھروں کا آرام چھوڑ کر آتے ہیں۔اگر ان کی صحت ہی درست نہ رہے تو یہ اس غرض کو کیونکر حاصل کر سکیں گے جس کے لئے یہاں آتے ہیں۔بہت کچھ ان کو سمجھایا اور وہ اپنے طریق کے موافق عذر کرتے رہے۔میرا مطلب اس سے یہ دکھانا ہے کہ اگر کسی مہمان کو ذراسی بھی تکلیف ہو تو آپ فوراً بے قرار ہو جاتے تھے اور جب تک اس کو اطمینان اور آرام کی حالت میں نہ دیکھ لیں آپ صبر نہ کرتے تھے۔مہمان نوازی پر اجمالی نظر آپ کی مہمان نوازی کے واقعات اور مثالیں اس کثرت سے ہیں کہ اگر ان سب کو جمع کیا جاوے تو بجائے خود ایک مستقل کتاب ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ جس کو توفیق دے گا وہ اس خصوص میں ایسا ذخیرہ جمع کر دے گا۔آپ کی عام خصوصیات مہمان نوازی میں یہ تھیں کہ (۱) آپ مہمان کے آنے سے بہت خوش ہوتے تھے اور آپ کی انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ مہمان کو ہر ممکن آرام پہنچے۔اور آپ نے خدام لنگر خانہ کو ہدایت کی ہوئی تھی کہ فورا آپ کو اطلاع دی جاوے۔اور یہ بھی ہدایت تھی کہ جس ملک اور مذاق کا مہمان ہو اس کے کھانے پینے کے لئے اسی قسم کا کھانا تیار کیا جاوے۔مثلاً اگر کوئی مدراسی، بنگالی یا کشمیری آگیا ہے تو ان کے لئے چاول تیار ہوتے تھے۔ایسے موقعہ پر فرمایا کرتے تھے کہ اگر ان کی صحت ہی درست نہ رہی تو وہ دین کیا سیکھیں گے۔