سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 63 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 63

63 جسمانی عالم سے قطعاً باہر لے جاتا ہے اس لئے کہ اس عالم سے پوری مناسبت ہو جائے۔پھریوں ہوتا ہے کہ جب ایک مرتبہ کلام کر چکتا ہے پھر ہوش و حواس واپس دے دیتا ہے اس لئے کہ ملہم اسے محفوظ کر لے اس کے بعد پھر ربودگی طاری کرتا ہے پھر یاد کرنے کے لئے بیدار کر دیتا ہے غرض اس طرح کبھی پچاس دفعہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے وہ ایک تصرف الہی ہوتا ہے اس طبعی نیند سے اس کو کوئی تعلق نہیں اور اطباء اور ڈاکٹر اس کی ماہیت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔" آپ سائل کو رد نہیں کرتے جو کچھ میسر ہو وے دیتے ہیں ایک دن ایسا ہوا کہ نماز عصر کے بعد آپ معمولاً اٹھے اور مسجد کی کھڑکی میں اندر جانے کے لئے پاؤں رکھنا اتنے میں ایک سائل نے آہستہ سے کہا کہ میں سوالی ہوں حضرت کو اس وقت ایک ضروری کام بھی تھا اور کچھ اس کی آواز دوسرے لوگوں کی آوازوں میں مل جل گئی تھی جو نماز کے بعد اٹھے اور عادتاً آپس میں کوئی نہ کوئی بات کرتے تھے۔غرض حضرت سرزدہ اندر چلے گئے اور التفات نہ کیا مگر جب نیچے گئے وہی دھیمی آواز جو کان میں پڑی تھی اب اس نے اپنا نمایاں اثر آپ کے قلب پر کیا۔جلد واپس تشریف لائے اور خلیفہ نور الدین صاحب کو آواز دی کہ ایک سائل تھا اسے دیکھو کہاں ہے وہ سائل آپ کے جانے کے بعد چلا گیا تھا ظیفہ صاحب نے ہر چند ڈھونڈا پتہ نہ بلا۔شام کو حسب عادت نماز پڑھ کر بیٹھے وہی سائل آگیا اور سوال کیا۔حضرت نے بہت جلدی جیب سے کچھ نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔اور اب ایسا معلوم ہوا کہ آپ ایسے خوش ہوئے ہیں کہ گویا کوئی بوجھ آپ کے اوپر سے اتر گیا ہے۔چند روز کے بعد ایک تقریب سے ذکر کیا کہ اس دن جو وہ سائل نہ ملا میرے دل پر ایسا بوجھ تھا کہ مجھے سخت بے قرار کر رکھا تھا اور میں ڈرتا تھا کہ مجھ سے معصیت سرزد ہوتی ہے کہ میں نے سائل کی طرف دھیان نہیں کیا اور یوں جلدی اندر چلا گیا۔اللہ