سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 39 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 39

39 میں بعض ایسے بھی ہیں جو بڑے بڑے اونچے دعوے کرتے اور معرفت کی ساری منزلوں کو طے کر جانے کے بدگی ہیں مگر اشتعال کے وقت اور پھر ادنی سی باتوں پر درندے بن جاتے ہیں اور اپنے بچوں سے ان کا سلوک اچھا نہیں وہ مارنے کو فرض جانتے ہیں اور اس پر بڑے دلا کل لاتے ہیں امید ہے کہ اس کے بعد تنہریں کریں گے۔حضرت مکان اور لباس کی آرائش اور زینت سے بالکل غائل اور بے پرواہ ہیں خدا کے فضل و کرم سے حضور کا یہ پایہ اور منزلت ہے کہ اگر چاہیں تو آپ کے مکان کی اینٹیں سنگ مرمر کی ہو سکتی ہیں اور آپ کے پا انداز سندس و اطلس کے بن سکتے ہیں مگر بیٹھنے کا مکان ایسا معمولی ہے کہ زمانہ کی عرفی نفاست اور صفائی کا جاں دادہ تو ایک دم کے لئے وہاں بینڈ پسند نہ کرے۔میں نے بارہا وہ تخت لکڑی کا دیکھا ہے جس پر آپ گرمیوں میں باہر بیٹھتے ہیں اس پر مرا پڑھی ہوئی ہے اور میلا ہے جب بھی آپ نے نہیں پوچھا اور جو کسی نے خدا کا خوف کر کے مٹی جھاڑ دی ہے، جب بھی التفات نہیں کیا کہ آج کیا صاف ، اور پاک ہے غرض اپنے کام میں اس قدر استغراق ہے کہ ان مادی باتوں کی مطلق پرواہ نہیں۔جب مہمانوں کی ضرورت کے لئے مکان بنوانے کی ضرورت پیش آئی ہے بار بار یہی تاکید فرمائی ہے کہ اینٹوں اور پتھروں پر پیسہ خرچ کرنا عبث ہے اتنا ہی کام کرو جو چند روز بسر کر نہ کر، گنجائش ہو جائے۔نجار تیر بندیاں اور تختے زندہ سے صاف کر رہا تھا روک دیا اور فرمایا یہ محض ہے اور ناحق کو دیر لگاتا ہے مختصر کام کرو۔فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہمیں کسی مکان سے کوئی ان ہی ہم اپنے مکانوں کو اپنے اور اپنے دوستوں میں مشترک جانتے ہیں اور بڑی آرزو ہے کہ مل کر چند روز گزارہ کرلیں۔اور فرمایا میری بڑی آرزو ہے کہ ایسا مکان ہو کہ چاروں طرف ہمارے احباب کے گھر ہوں اور - درمیان میں میرا گھر ہو اور ہر ایک گھر میں ، بیری ایک کھڑکی ہو کہ ہر ایک سے ہر