سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 38 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 38

38 دے یا چشم نمائی کرے مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اور طائش والعقل ہرگز سزاوار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔فرمایا جس طرح اور جس قدر سزا دینے میں کوشش کی جاتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک حزب مقرر کرلیں۔اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔فرمایا میں التزاماً چند دعائیں ہر روز مانگا کرتا ہوں اول اپنے نفس کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ خدا مجھ سے وہ کام لے جس سے اس کی عزت و جلال ظاہر ہو اور اپنی رضا کی پوری توفیق عطا کرے۔پھر اپنے گھر کے لوگوں کے لئے مانگتا ہوں کہ ان سے قرۃ مین عطا ہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی راہ پر چلیں۔پھر اپنے بچوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ یہ سبہ، دین کے خدام بنیں۔پھر اپنے مخلص دوستوں کے لئے نام بنام اور پھر ان سب کے لئے جو اس سلسلہ سے وابستہ ہیں خواہ ہم انہیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔اور اسی ضمن میں فرمایا حرام ہے مشیخی کی گدی پر بیٹھنا اور پیر بنا اس شخص کو جو ایک منٹ بھی اپنے متوسلین سے غافل رہے۔ہاں پھر فرمایا ہدایت اور تربیت حقیقی خدا کا فعل ہے سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرنا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہئے۔آپ نے قطعی طور پر فرمایا اور لکھ کر بھی ارشاد کیا کہ ہمارے مدرسہ میں جو استاد مارنے کی عادت رکھتا اور اپنے اس ناسزا فعل سے باز نہ آتا ہو اسے یک لخت موقوف کر دو۔فرمایا ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں بس اس سے زیادہ نہیں اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالٰی پر رکھتے ہیں جیسا کسی میں سعادت کا تخم ہو گا وقت پر سرسبز ہو جائے گا۔برادران حضرت اقدس کے اس عمل سے سبق لینا چاہئے۔ہماری جماعت