سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 22
22 اس لڑکے کو گھور اس خادمہ سے خفا اس بچہ کو مار بیوی سے تکرار ہو رہی ہے کہ نمک کھانے میں کیوں زیادہ یا کم ہو گیا یہ برتن یہاں کیوں رکھا ہے اور وہ چیز وہاں کیوں دھری ہے تم کیسی پھو ہر بد مذاق اور بے سلیقہ عورت ہو اور کبھی جو کھانا طبع عالی کے حسب پسند نہ ہو تو آگے کے برتن کو دیوار سے شیخ دیتے ہیں اور بس ایک کرام گھر میں بچ جاتا ہے۔عورتیں بلک بلک کر خدا سے دعا کرتی ہیں کہ شاہ صاحب باہر ہی رونق افروز رہیں۔غض بصر اور عفو اور چشم پوشی کے جزئیات بڑا لمبا مفصل مضمون چاہتے ہیں۔موٹی سے موٹی سمجھ کی کام کاج کرنے والی عورتیں ایسا یقین اس بات پر رکھتی ہیں جیسے اپنے وجود پر کہ حضرت کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ہفتوں مہینوں اندر صحن میں پھرا کریں اور عورتوں کے مجمع میں سے ہر روز کیوں نہ گذرا کریں کبھی بھی آنکھ اٹھا کر کسی کی طرف نہیں دیکھتے ہمیشہ نظر بر پشت پا دوختہ رہتے ہیں۔عجب سکون اور جمعیت باطن اور فوق العادۃ وقار اور علم ہے کہ کیسا ہی شور اور غلغلہ برپا ہو جائے جو عموماً قلوب کو پر کاہ کی طرح اڑا دیتا اور شور اور جائے شور کی طرف خوانخواہ کھینچ لاتا ہے حضرت اسے ذرہ بھر بھی محسوس نہیں کرتے اور مشوش الاوقات نہیں ہوتے۔یہی ایک حالت ہے جس کے لئے اہل مذاق تڑپتے اور مالک ہزار دست و پا مارتے اور رو رو کر خدا سے چاہتے ہیں۔میں نے بہت سے قابل مصنفوں اور لائق محرروں کو سنا اور دیکھا ہے کہ کمرہ میں بیٹھے کچھ سوچ رہے ہیں یا لکھ رہے ہیں اور ایک چڑیا اندر گھس آئی ہے اس کی چڑچڑ سے اس قدر حواس باختہ اور سراسیمہ ہوئے ہیں کہ تفکر اور مضمون سب نقش بر آب ہو گیا اور اسے مارنے نکالنے کو یوں لپکے ہیں جیسے کوئی شیر اور چیتا پر حملہ کرتا یا سخت اشتعال دینے والے دشمن پر پڑتا ہے۔ایک بڑے بزرگ صوفی صاحب یا قاضی صاحب کی بڑی صفت ان کے پیرو جب کرتے ہیں یہی کرتے ہیں کہ وہ بڑے نازک طبع ہیں اور جلد برہم ہو جاتے ہیں اور تھوڑی دیر آدمی ان کے پاس بیٹھے تو گھبرا جاتے ہیں