سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 12 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 12

12 غرض کالجوں نے ایک خوفناک طاعون دنیا میں پھیلایا ہے رات دن کالجوں کے فرزند جواب دہی زمانہ کے میدان میں کارکن بھی ہیں دنیا دنیا پکارتے اور دنیا ہی کے لئے کمیٹیاں اور کانفرنسیں کرتے اور وام و ورم اور قدم دنیا ہی کے لئے اٹھاتے اور خرچ کرتے ہیں اور دین کے نام پر غیظ و غضب میں آجاتے ہیں۔ان کا فلسفہ اور طبعی اور سائنس ان سب مفاسد کی جڑ ہے۔اب ایسے مصلح کی ضرورت ہے جو ان علوم باطلہ کی جگہ علوم حقہ کو ممکن کر سکے۔کچہریاں، مقدمہ بازی نے راست بازی تقوی۔دیانت امانت اور اخوت اور ہمدردی ان سب اخلاق فاضلہ کا خون کردیا ہے اور گھر گھر اور کوچہ کوچہ اور گاؤں گاؤں اور شہر شہر میں بنی آدم کے لباس میں گرگ و پلنگ اور گیدڑ اور کتے پیدا کر دیئے ہیں۔اپیل نویس اور عرضی تولیں عموماً وكلاء بیرسٹر مختار مقدمات کی ترغیب دیتے ہیں۔ان صورتوں میں کہاں خدا کا خوف دلوں میں سائے۔ہر ایک مکان میں مقدمہ بازی کے لئے رات دن جھوٹے منصوبے اور مشورے ہوتے ہیں اور دین اور کار دین معمل چھوڑا گیا ہے۔ہوم اور محکمے خصوصاً تار ڈاک اور ریل کے محلے۔ان میں کام کی وہ کثرت رکھی ہے کہ الامان۔ایک آدمی وہاں رکھا گیا ہے جہاں تین آدمیوں کا کام ہے۔اس کثرت کار اور شدت مصروفیت کی وجہ سے خدا کا خانہ پوری طرح مقبوض اور بھر دیا گیا ہے۔دین کی ریاضت اور توجہ الی اللہ اور فرائض و مهمات دین کی بجا آوری کی فرصت کہاں۔ریل کے محکمے نے خطرناک غفلت پیدا کی ہے اسٹیشن پر رات دن فرصت ہی نہیں ملتی۔رات کو جاگنا اور دن کو کام کرنا گویا خدا کے قانون قدرت کے میلان کے خلاف جنگ کرنا مخلوق کو سکھایا جاتا ہے۔پس یہ بڑا بھاری دجل ہے جس نے قوائے ایمانیہ کو قریباً بیکار کردیا ہے۔