سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 46
سیرت حضرت مسیح موعود علیه السلام 46 آپ علیہ السلام آنکھیں نیچی کئے ہوئے آتے اور اپنے والد صاحب سے کچھ فاصلے پر سلام کر کے بیٹھ جاتے۔وہ دیہاتی کہتا کہ آپ علیہ السلام کے والد صاحب آپ علیہ السلام کو مسیت کہتے اور کہتے کہ یہ نہ نوکری کرتا ہے اور نہ کماتا ہے۔پھر وہ آپ علیہ السلام کو ہنس کر کہتے چلو تمہیں کسی مسجد میں ملاں کروا دیتا ہوں۔دس من وانے تو گھر آ جایا کریں گے۔پھر وہ آپ علیہ السلام کو افسوس کی نگاہ سے دیکھتے کہ میرا یہ لڑکا دنیا کی ترقی سے محروم رہا جاتا ہے۔وہی سکھ دیہاتی ایک بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملنے آیا۔آپ علیہ السلام کے اصحاب اس وقت گول کمرے میں کھانا کھا رہے تھے۔اس نے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔لوگوں نے کہا اس وقت حضور علیہ السلام کام میں مصروف ہوں گے جب تشریف لائیں گے تو مل لینا۔اس پر اس نے بے دھڑک آواز دی کہ مرزا جی ! ذرا باہر آؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوراً بغیر پگڑی باندھے باہر تشریف لے آئے اور مسکراتے ہوئے اُسے فرمایا ”سردار صاحب! اچھے ہو، خوش ہو، بہت دنوں کے بعد ملے ہو۔“ اس نے کہا کہ " میں خوش ہوں مگر بڑھاپے نے ست کر رکھا ہے۔“ پھر اس نے کہا کہ ”مرزا جی ! آپ علیہ السلام کو وہ پہلی باتیں بھی یاد ہیں جو بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے۔آج وہ زندہ ہوتے تو یہ چہل پہل دیکھتے کہ کس طرح ان کا یہ مسیر لڑکا بادشاہ بنا بیٹھا ہے