سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 885 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 885

۸۸۵ ہجری میں ہوئی اور اس میں شریک ہونے والے مسلمانوں کی تعداد سات سو تھی یا اُحد کے بعد بڑی لڑائی غزوہ خندق تھی جو ۵ ہجری میں ہوئی۔اس لڑائی میں گوخندق وغیرہ کے کھود نے کے کام پر بچے اور بوڑھے سب مسلمان ملا کر کل تعداد تین ہزار ہو گئی تھی۔کیونکہ یہ لڑائی ہوئی بھی گویا مدینہ کے اندر تھی اور گھر سے باہر نکلنے کا سوال نہیں تھا مگر غالباً عملا لڑائی کے وقت صرف ایک ہزار مسلمان شریک ہوئے تھے۔کے اس کے بعد ۶ ہجری میں صلح حدیبیہ کا غزوہ پیش آیا جس میں مسلمانوں کی تعداد چودہ سو بیان ہوئی ہے ہے یہ کل انیس سال ہوئے کیونکہ قریباً تیرہ سال کی زندگی والے اور قریباً چھ سال صلح حدیبیہ تک کی مدنی زندگی والے ملا کر کل انیس سال بنتے ہیں۔گویا ان انیس سالوں میں جو ابتداء مکہ کے جابرانہ تشدد اور بعد میں با قاعدہ لڑائی کی حالت میں گزرے اسلام کل چودہ سو مسلمان جوان پیدا کر سکا۔اس کے بعد امن اور صلح کا زمانہ آتا ہے۔اس میں مسلمانوں کی تعداد نے جو ترقی کی اس کا اندازہ اس تعداد سے ہوسکتا ہے جو صلح حدیبیہ کے دوسال بعد یعنی ۸ ہجری میں فتح مکہ کے موقع پر شریک ہوئی۔یہ تعداد مسلمہ طور پر دس ہزار تھی۔گویا جہاں جنگ کے زمانہ میں انیس سال کی طویل جد و جہد نے صرف چودہ سو مسلمان پیدا کئے وہاں اس کے بعد امن کے زمانہ میں دو سال کی پر امن تبلیغ نے اس تعداد میں آٹھ ہزار چھ سو کا اضافہ کر دیا۔یہ حیرت انگیز فرق اس طرح پیدا ہوا کہ ایک طرف تو جنگ کے زمانہ میں کافروں اور مسلمانوں کے درمیان باہم میل ملاقات کا بہت کم موقع ملتا تھا اس لئے اسی نسبت سے کفار کو اسلام کی دلکش تعلیم کے سننے اور اس سے متاثر ہونے کا موقع بھی بہت کم میسر آتا تھا اور دوسری طرف جولوگ جنگ کے زمانہ میں اسلام کی تعلیم سے متاثر ہوتے تھے ان میں سے بھی اکثر اس زمانہ کی غیر معمولی تکالیف اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے آگے آنے سے ڈرتے تھے لیکن جب جنگ ختم ہونے سے صلح کا ماحول قائم ہوا تو گویا وہ بھاری بند جو اسلام کے دریا کے بہاؤ کو روکے ہوئے تھا یکلخت ٹوٹ کر گر گیا اور اسلام کے حیات افزا پانیوں کو کھلا رستہ ملنے سے اسلام نے وہ حیرت انگیز ترقی کی جو ہمارے سامنے ہے۔کیا اس واضح نظارے کو دیکھتے ہوئے کوئی منصف مزاج انسان یہ اعتراض منہ پر لاسکتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے؟ دیکھو اور غور کرو کہ جب تلوار نیام سے باہر تھی تو انیس سال کی طویل جد و جہد نے صرف چودہ سو مسلمان پیدا کئے لیکن جب یہ تلوار نیام کے اندر آگئی تو دو سال کے قلیل عرصہ نے ساڑھے آٹھ ہزار انسانوں کو ے ابن اسحاق بحوالہ زرقانی : تاریخ خمیس : ابن سعد وابن اسحاق ۴، ۵ : بخاری