سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 884 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 884

۸۸۴ اسلام کی امن اور جنگ کی طاقت کا مقابلہ صلح حدیبیہ اسلامی تاریخ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اہم ترین واقعات میں سے ہے جس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس نئے دور کا آغاز غزوہ احزاب سے ہوا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا یعنی آئندہ قریش مکہ پر ہم چڑھائی کریں گے مگر انہیں مدینہ کے خلاف چڑھائی کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔اس نئے دور کی تکمیل صلح حدیبیہ سے ہوئی جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے درمیان ایک با قاعدہ معاہدہ کے ذریعہ لڑائی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور انیس سال کی طویل کشمکش کے بعد جو شروع میں جابرانہ تشد داور تعذیب کا رنگ رکھتی تھی اور آخر میں با قاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لئے کم از کم جہاں تک اہل مکہ کا تعلق تھا امن کا ماحول قائم ہو گیا۔سواس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھی اسلام کی اس انیس سالہ خون آلود زندگی پر نظر ڈال کر دیکھیں کہ ان انیس سالوں میں اسلام نے کس رنگ میں ترقی کی اور اس کے بعد امن کے دور میں (امن سے مراد نسبتی امن ہے کیونکہ گومکہ کے ساتھ صلح ہوگئی تھی مگر عرب کی دوسری قو میں ابھی تک اسلام کے خلاف برسر پیکار تھیں ) اسلام کی ترقی نے کیا صورت اختیار کی ؟ یہ ایک نہایت لطیف مقابلہ ہو گا جس سے ہر انصاف پسند محقق اور مبصر کو اسلام کی امن اور جنگ کی طاقت کے موازنہ کا بہت اچھا معیار حاصل ہو سکے گا۔یہ ظاہر ہے کہ اسلام کی ابتدائی مردم شماری کا ریکارڈ موجود نہیں ہے اس لئے ہمیں لازماً اسلام کی ترقی کی رفتار کا اندازہ اس تعداد سے لگانا ہوگا جو ابتدائی اسلامی لڑائیوں میں شریک ہوتی رہی ہے اور نسبتی ترقی کو دیکھنے کے لئے یہ طریق کافی تسلی بخش ہے۔سو چھوٹے چھوٹے درمیانی واقعات کو چھوڑتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کی سب سے پہلی لڑائی میں یعنی جنگ بدر کے موقع پر جو۲ ہجری میں ہوئی مسلمان مجاہدین کی تعداد باختلاف روایت تین سو دس سے لے کر تین سو انیس تک تھی۔۔اس کے بعد اُحد کی لڑائی بخاری بحوالہ زرقانی بخاری وزرقانی