سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 873 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 873

۸۷۳ اس شرط کو کہ مکہ کے نومسلموں کو مدینہ میں پناہ نہیں دی جائے گی اپنی خوشی سے منسوخ کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخواست کو منظور فرمالیا اور ابو بصیر اور ابو جندل کو ایک خط کے ذریعہ اطلاع بھجوائی کہ چونکہ قریش نے اپنی خوشی سے معاہدہ میں ترمیم کر دی ہے اس لئے اب انہیں مدینہ میں چلے آنا چاہئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اینچی سیف الحر پہنچا تو اس وقت ابوبصیر بیمار ہوکر صاحب فراش تھا اور حالت نازک ہورہی تھی۔ابو بصیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب مبارک کو بڑے شوق کے ساتھ اپنے ہاتھ میں تھامے رکھا اور تھوڑی دیر بعد اسی حالت میں جان دے دی اور اس کے بعد ا بو جندل اور اس کے ساتھی اپنے اس باہمت اور جوانمبر دامیر کو سیف البحر میں ہی دفن کر کے خوشی اور غم کے مخلوط جذبات کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔غم اس لئے کہ ان کا بہادر لیڈ رابوبصیر جو اس واقعہ کا ہیرو تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدم بوسی سے محروم رہا اور خوشی اس بات پر کہ وہ خود اپنے آقا کے قدموں میں پہنچ گئے اور قریش کے خونی مقابلہ سے نجات ملی۔ابوبصیر اور ان کے رفقا کا دلچسپ کا رنامہ صلح حدیبیہ کے معا بعد سے لے کر کئی ماہ کے وقفہ پر پھیلا ہوا تھا اور اس عرصہ میں بعض دوسرے واقعات بھی پیش آئے۔مگر ہم نے صلح حدیبیہ سے تعلق رکھنے والے واقعات کو یکجا بیان کرنے کی غرض سے اسے صلح حدیبیہ کے ساتھ ہی بیان کر دیا ہے۔صلح حدیبیہ کے تعلق میں عیسائی مؤرخین کے دواعتراضات غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح کا کوئی اہم واقعہ ایسا نہیں ہے جسے مسیحی مؤرخین نے بغیر اعتراض کے چھوڑا ہو اور صلح حدیبیہ کا واقعہ بھی اسی کلیہ کے نیچے آتا ہے۔بعض ضمنی اور غیر اہم اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے عیسائی مصنفین نے صلح حدیبیہ کے تعلق میں دو اعتراض کئے ہیں: اول : یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صلح حدیبیہ کی شرائط سے عورتوں کو مستثنی قرار دیا یہ شرائط معاہدہ کی رو سے جائز نہیں تھا کیونکہ معاہدہ کے الفاظ عام تھے جس میں مرد عورت سب شامل تھے۔دوم یہ کہ ابو بصیر کے واقعہ کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کی روح کو توڑا بلکہ ابو بصیر کو یہ اشارہ دے کر کہ وہ مکہ میں واپس جانے کی بجائے ایک الگ پارٹی بنا کر اپنا کام کرسکتا ہے بخاری کتاب الشروط وابن ہشام وطبری و تاریخ شمس وسيرة حلبیہ : زرقانی جلد ۲ صفحه ۲۰۳ و تاریخ خمیس