سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 872 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 872

۸۷۲ یعنی ” جب ابو بصیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ سنے تو جان لیا کہ آپ بہر حال اسے مکہ والوں کی طرف واپس بھجوا دیں گے۔“ اس پر وہ چپکے سے وہاں سے نکل آیا اور مکہ جانے کی بجائے جہاں اسے جسمانی اور روحانی دونوں موتیں نظر آتی تھیں بحیرہ احمر کے ساحل کی طرف ہٹ کر سیف البحر میں پہنچ گیا۔جب مکہ کے دوسرے مخفی اور کمزور مسلمانوں کو یہ علم ہوا کہ ابوبصیر نے ایک علیحدہ ٹھکانا بنالیا ہے تو وہ بھی آہستہ آہستہ مکہ سے نکل نکل کر سیف البحر میں پہنچ گئے۔انہی لوگوں میں رئیس مکہ سہیل بن عمرو کا لڑکا ابو جندل بھی تھا جس کے متعلق ہم پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حدیبیہ سے واپس لوٹا دیا تھا۔آہستہ آہستہ ان لوگوں کی تعداد ستر کے قریب یا بعض روایات کے مطابق تین سو تک پہنچ گئی۔اور اس طرح گویا مدینہ کے علاوہ ایک دوسری اسلامی ریاست بھی معرض وجود میں آگئی جو مذ ہبا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت تھی مگر سیاست جدا اور آزاد تھی۔چونکہ ایک طرف حجاز کی حدود میں ایک علیحدہ اور آزاد سیاسی نظام کا موجود ہونا قریش کے لئے خطرہ کا باعث تھا اور دوسری طرف سیف البحر کے مہاجر قریش مکہ سے سخت زخم خوردہ تھے اس لئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ان مہاجرین سیف البحر اور قریش کے تعلقات نے قریباً قریباً وہی صورت اختیار کر لی جو ابتدا میں مہاجرین مدینہ کے متعلق پیدا ہوئی تھی اور چونکہ سیف البحر اس رستہ کے بالکل قریب تھا جو مدینہ سے شام کو جاتا تھا اس لئے قریش کے قافلوں کے ساتھ ان مہاجرین کی مٹھ بھیڑ ہونے لگی۔اس نئی جنگ نے جلد ہی قریش کے لئے خطرناک صورت اختیار کر لی کیونکہ اول تو قریش سابقہ جنگ کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے اور دوسرے اب وہ پہلے کی نسبت تعداد میں بھی بہت کم تھے اور ان کے مقابل پر سیف البحر کی اسلامی ریاست جو ابو بصیر اور ابوجندل جیسے جان فروشوں کی کمان میں تھی۔ایمان کے تازہ جوش اور اپنے گزشتہ مظالم کی تلخ یاد میں اس برقی طاقت سے معمور تھی جو کسی مقابلہ کو خیال میں نہیں لاتی۔نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی قریش نے ہتھیار ڈال دئے اور ابو بصیر کی پارٹی کے حملوں سے تنگ آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سفارت کے ذریعہ درخواست کی اور اپنی رشتہ داری کا واسطہ دے کر عرض کیا کہ سیف البحر کے مہاجرین کو مدینہ میں بلا کر اپنے سیاسی انتظام میں شامل کرلیں اور ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح حدیبیہ کی لے: ابن ہشام سہیلی شرح ابن ہشام و موسیٰ بن عقبہ بحوالہ زرقانی