سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 852
۸۵۲ پھر اس نے اپنا وہ سارا مشاہدہ بیان کیا جو اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دیکھا تھا اور آخر میں کہنے لگا میں پھر یہی مشورہ دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تجویز ایک منصفانہ تجویز ہے 166 اسے قبول کر لینا چاہئے۔عروہ کی یہ گفتگوسن کر قبیلہ بنی کنانہ کے ایک رئیس نے جس کا نام حلیس بن علقمہ تھا۔قریش سے کہا اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاتا ہوں۔‘انہوں نے کہا ”ہاں بے شک جاؤ۔چنانچہ یہ شخص حدیبیہ میں آیا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دور سے آتے دیکھا تو صحابہ سے فرمایا یہ شخص جو ہماری طرف آرہا ہے ایسے قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے مناظر کو پسند کرتے ہیں۔پس فوراً اپنے قربانی کے جانوروں کو اکٹھا کر کے اس کے سامنے لاؤ تا کہ اسے پتہ لگے اور احساس پیدا ہو کہ ہم کسی غرض سے آئے ہیں۔چنانچہ صحابہ اپنے قربانی کے جانوروں کو ہنکاتے ہوئے اور تکبیروں کی آواز بلند کرتے ہوئے اس کے سامنے جمع ہو گئے۔جب اس نے یہ نظارہ دیکھا تو کہنے لگا۔سبحان اللہ سبحان اللہ یہ تو حاجی لوگ ہیں۔انہیں بیت اللہ کے طواف سے کسی طرح روکا نہیں جاسکتا۔“ چنانچہ وہ جلدی ہی قریش کی طرف واپس لوٹ گیا اور قریش سے کہنے لگا ” میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے جانوروں کے گلے میں قربانی کے بار باندھ رکھے ہیں اور ان پر قربانی کے نشان لگائے ہوئے ہیں۔پس یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ انہیں طواف کعبہ سے روکا جائے۔قریش میں اس وقت ایک سخت انتشار کی کیفیت پیدا ہورہی تھی اور لوگوں کی دو پارٹیاں بن گئی تھیں۔ایک پارٹی بہر صورت مسلمانوں کو واپس لوٹانے پر مصر تھی اور مقابلہ کے خیالات پر سختی سے قائم تھی۔مگر دوسری پارٹی اسے اپنی قدیم مذہبی روایات کے خلاف پا کر خوف زدہ ہو رہی تھی اور کسی باعزت سمجھوتہ کی متمنی تھی اس لئے فیصلہ معلّق چلا جار ہا تھا۔اس موقع پر ایک اور عربی رئیس مکر ز بن حفص نامی نے قریش سے کہا ” مجھے جانے دو میں کوئی فیصلہ کی راہ نکالوں گا۔قریش نے کہا اچھا تم بھی کوشش کر کے دیکھ لو۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دور سے آتے دیکھا تو فرمایا خدا خیر کرے یہ آدمی تو اچھا نہیں۔بہر حال مکرز آپ کے پاس آیا اور گفتگو کرنے لگا۔مگر ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا کہ مکہ کا ایک نامور رئیس سہیل بن عمر و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بخاری کتاب الشروط : بخاری کتاب الشروط : ابن ہشام وابن سعد