سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 834 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 834

۸۳۴ حالت میں ادھر ادھر آتے جاتے۔شہر کے گلی کوچوں میں پھرتے۔مسجد میں روازنہ کم از کم پانچ وقت نمازوں کے لئے تشریف لاتے اور سفروں میں بالکل بے تکلفانہ اور آزا د طور پر رہتے ہیں۔اس سے زیادہ اچھا موقع کسی کرایہ دار قاتل کے لئے کیا ہو سکتا تھا؟ یہ خیال آنا تھا کہ ابوسفیان نے اندر ہی اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی تجویز پختہ کرنی شروع کر دی۔جب وہ پورے عزم کے ساتھ اس ارادے پر جم گیا تو اس نے ایک دن موقع پا کر اپنے مطلب کے چند قریشی نو جوانوں سے کہا کہ ” کیا تم میں سے کوئی ایسا جوانمرد نہیں جو مدینہ میں جا کر خفیہ خفیہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کام تمام کر دے؟ تم جانتے ہو کہ محمد کھلے طور پر مدینہ کی گلی کوچوں میں پھرتا ہے۔ان نوجوانوں نے اس خیال کو سنا اور لے اڑے۔ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ایک بدوی نوجوان ابوسفیان کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے آپ کی تجویز سنی ہے اور میں اس کے لئے حاضر ہوں۔میں ایک مضبوط دل والا اور پختہ کار انسان ہوں جس کی گرفت سخت اور حملہ فوری ہوتا ہے۔اگر آپ مجھے اس کام کے لئے مقرر کر کے میری مدد کریں تو میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے کی غرض سے جانے کے لئے تیار ہوں۔اور میرے پاس ایک ایسا خنجر ہے جو شکاری گدھ کے مخفی پروں کی طرح رہے گا۔سو میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر حملہ کروں گا اور پھر بھاگ کر کسی قافلہ میں مل جاؤں گا اور مسلمان مجھے پکڑ نہیں سکیں گے اور میں مدینہ کے رستے کا بھی خوب ماہر ہوں۔ابوسفیان نے کہا۔”بس بس تم ہمارے مطلب کے آدمی ہو۔اس کے بعد ابوسفیان نے اسے ایک تیز رو اونٹنی اور زاد راہ وغیرہ دے کر رخصت کیا اور تاکید کی کہ اس راز کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دینا ہے مکہ سے رخصت ہو کر یہ شخص دن کو چھپتا ہوا اور رات کو سفر کرتا ہوامد بینہ کی طرف روانہ ہوا اور چھٹے دن مدینہ پہنچ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ لیتے ہوئے سیدھا قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پہنچا جہاں آپ اس وقت تشریف لے گئے ہوئے تھے۔چونکہ ان ایام میں نئے سے نئے آدمی مدینہ میں آتے رہتے تھے اس لئے کسی مسلمان کو اس کے متعلق شبہ نہیں ہوا مگر جو نہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی طرف آتے دیکھا آپ نے فرمایا یہ شخص کسی بری نیت سے آیا ہے۔وہ یہ الفاظ سن کر اور بھی تیزی کے ساتھ آپ کی طرف بڑھا مگر ایک انصاری رئیس اُسید بن حضیر فور لپک کر اس کے ساتھ لپٹ گئے اور اس جدو جہد میں ان کا ہاتھ اس کی چھپی ہوئی خنجر پر جاپڑا جس پر وہ گھبرا کر بولا۔” میرا خون میرا خون۔“ ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۸