سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 833
۸۳۳ غداری کا مزا چکھتے ہوئے خاک میں مل گئے لے جب صحابہ کی یہ پارٹی مدینہ میں واپس پہنچی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات سے اطلاع ہوئی تو آپ نے مسلمانوں کے صحیح سلامت بچ جانے پر خدا کا شکر کیا اور فرمایا: قَدْنَجَاكُمُ اللَّهُ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ 66 شکر کرو کہ خدا نے تمہیں اس ظالم پارٹی سے نجات دی۔“ اس واقعہ کے متعلق بعض مسیحی مؤرخین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ گویا عبداللہ بن رواحہ کی پارٹی اُسیر وغیرہ کو خیبر سے اسی نیت سے نکال کر لائی تھی کہ رستہ میں موقع پا کر انہیں قتل کر دیا جائے مگر یہ اعتراض مغربی سینہ زوری کے ایک ناگوار مظاہرہ کے سوا کچھ حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ مسلمان اس نیت سے وہاں گئے تھے بلکہ غور کیا جاوے تو قطع نظر دوسرے شواہد کے صرف عبد اللہ بن انیس کے یہ الفاظ ہی کہ اے دشمن خدا! کیا غداری کی نیت ہے؟ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ کہ شکر کرو کہ خدا نے تمہیں اس ظالم پارٹی سے نجات دی۔اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ مسلمانوں کی نیت بالکل صاف اور پر امن تھی اور جو کچھ ہوا وہ محض اس غداری کا نتیجہ تھا جو یہودی لوگ حسب عادت مسلمانوں کے ساتھ کرنا چاہتے تھے مگر جسے خدا نے اپنے فضل سے خود انہی پر الٹا دیا۔وو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی غزوہ احزاب کی ذلت بھری ناکامی کی یاد نے قریش مکہ کے تن بدن میں آگ لگا رکھی تھی اور طبعاً سازش اور سریہ عمرو بن امیہ شوال ۶ ہجری قلبی آگ زیادہ تر ابوسفیان کے حصہ میں آئی تھی جو مکہ کا رئیس تھا اور احزاب کی مہم میں خاص طور پر ذلت کی مار کھا چکا تھا۔کچھ عرصہ تک ابوسفیان اس آگ میں اندر ہی اندر جلتا رہا مگر بالآخر معاملہ اس کی برداشت سے نکل گیا اور اس آگ کے مخفی شعلے باہر آنے شروع ہو گئے۔طبعا کفار کی سب سے زیادہ عداوت بلکہ در حقیقت اصل عداوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ تھی۔اس لئے اب ابوسفیان اس خیال میں پڑ گیا کہ جب ظاہری تدبیروں اور حیلوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو کیوں کسی مخفی تدبیر سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔وہ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد کوئی خاص پہرہ نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات آپ بالکل بے حفاظتی کی ابن ہشام وابن سعد ابن سعد