سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 805 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 805

۸۰۵ میں ان پر بارشوں کی کمی نہ ہو گئی ہو۔حتی کہ اگر خدا کو اپنے پیدا کردہ جانوروں اور مویشیوں کا خیال نہ ہو تو ایسی قوم پر بارشوں کا سلسلہ بالکل ہی بند ہو جائے۔چہارم کبھی کسی قوم نے خدا اور اس کے رسول کے عہد کو نہیں توڑا کہ ان پر کوئی غیر قوم ان کے دشمنوں میں سے مسلط نہ کر دی گئی ہو جو ان کے حقوق کو غصب کر نے لگ جائے۔پنجم کبھی کسی قوم کے علماء اور ائمہ نے خلاف شریعت فتوے دے دے کر شریعت کو اپنے مطلب کے 166 مطابق نہیں بگاڑنا چاہا کہ ان کے درمیان اندرونی لڑائی اور جھگڑوں کا سلسلہ شروع نہ ہو گیا ہو۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ زریں تقریر قوموں کی ترقی و تنزل کے اسباب پر بہترین تبصرہ ہے اور اگر مسلمان چاہیں تو ان کے لئے موجودہ زمانہ میں بھی یہ ایک بہترین سبق ہے۔اس کے بعد آپ اپنے مقرب صحابی عبدالرحمن بن عوف سے مخاطب ہوئے اور فرمایا۔ابن عوف! میں تمہیں ایک سریہ پر امیر بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں تم تیار رہو۔“ چنانچہ دوسرے دن صبح کے وقت عبدالرحمن بن عوف آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ان کے سر پر انہی کا عمامہ لے کر باندھا اور بلال کو حکم دیا کہ ایک جھنڈا ان کے سپرد کر دیا جائے۔اور پھر آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے ماتحت صحابہ کا ایک دستہ متعین کر کے ان سے فرمایا: خُذْهُ يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاغْرُوا جَمِيعًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَلَا تَغْلُوا وَلَاَ تَغْدِرُوا وَلَا تُمَتِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيْدًا فَهَذَا عَهْدُ اللَّهِ وَسِيْرَةُ نَبِيِّهِ فِيُكُمْ یعنی ”اے ابن عوف اس جھنڈے کو لے لو اور پھر تم سب خدا کے رستہ میں جہاد کے لئے نکل جاؤ اور کفار کے ساتھ لڑ ونگر دیکھنا کوئی بددیانتی نہ کرنا اور نہ کوئی عہد شکنی کرنا اور نہ دشمن کے مردوں کے جسموں کو بگاڑنا اور نہ بچوں کو قتل کرنا۔یہ خدا کا حکم ہے اور اس کے نبی کی سنت۔“ اس روایت میں غالبا راوی نے سہو ا عورتوں کا ذکر چھوڑ دیا ہے ورنہ دوسری جگہ صراحت آتی ہے کہ آپ جب کوئی دستہ بھجواتے تھے تو یہ بھی تاکید فرماتے تھے کہ عورتوں کو قتل نہ کرنا اور نہ بوڑھے پیر فرتوت لوگوں کو قتل کرنا اور نہ ایسے لوگوں کو قتل کرنا جن کی زندگی مذہبی خدمت کے لئے وقف ہو۔اس کے بعد ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۸۸ حالات سریہ دومۃ الجندل : ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۸۹٬۸۸ سے : مسلم وموطا وابوداؤ دو طحاوی جن کا حوالہ سیرۃ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم دوم میں گزر چکا ہے