سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 757
۷۵۷ سریہ زید بن حارثہ بطرف عیص۔جمادی الاولی ۶ ہجری زید بن حارثہ کو اس مہم سے واپس آئے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاولیٰ کے مہینہ میں انہیں ایک سو ستر صحابہ کی کمان میں پھر مدینہ سے روانہ فرمایا۔اس مہم کی وجہ اہل سیر نے یہ کھی ہے کہ شام کی طرف سے قریش مکہ کا ایک قافلہ آرہا تھا اس کی روک تھام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستہ کو روانہ فرمایا تھا۔قافلوں کی روک تھام کے متعلق ہم غزوات کے ابتدا میں ایک اصولی بحث درج کر چکے ہیں۔اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔صرف اس قدر اشارہ کافی ہے کہ قریش کے قافلے ہمیشہ مسلح ہوتے تھے اور مکہ اور شام کے درمیان آتے جاتے ہوئے وہ مدینہ کے بالکل قریب سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے ان کی طرف سے ہر وقت خطرہ رہتا تھا۔علاوہ ازیں جیسا کہ ابتدائی بحث میں ذکر کیا جا چکا ہے یہ قافلے جہاں جہاں سے گزرتے تھے۔قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے جاتے تھے۔جس کی وجہ سے سارے ملک میں مسلمانوں کے خلاف عداوت کی ایک خطر ناک آگ مشتعل ہو چکی تھی اس لئے ان کی روک تھام ضروری تھی۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ کی خبر پا کر زید بن حارثہ کو اس طرف روانہ فرمایا اور وہ اس ہوشیاری سے گھات لگاتے ہوئے بڑھے کہ بمقام عیص قافلہ کو جا دبایا۔عیص ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے چار دن کی مسافت پر سمندر کی جانب واقع ہے چونکہ یہ اچانک حملہ تھا اہل قافلہ مسلمانوں کے حملہ کی تاب نہ لا سکے اور اپنے ساز وسامان کو چھوڑ کر بھاگ نکلے۔زید نے بعض قیدی پکڑ کر اور سامان قافلہ اپنے قبضہ میں لے کر مدینہ کی راہ لی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داما دابو العاص کا مسلمان ہونا ان قیدیوں میں جو سریہ داماد بطرف عیص میں پکڑے گئے ابوالعاص بن الربیع بھی تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور حضرت خدیجہ مرحومہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے۔اس سے قبل وہ جنگ بدر میں بھی قید ہو کر آئے تھے مگر اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس شرط پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ مکہ پہنچ کر آپ کی صاحبزادی حضرت زینب کو مدینہ بھجوادیں۔ابوالعاص نے اس وعدہ کو تو پورا کر دیا تھا مگر وہ خود بھی تک شرک پر قائم تھے۔جب زید بن حارثہ انہیں قید کر کے مدینہ میں لائے تو رات کا وقت تھا مگر کسی طرح ابوالعاص نے حضرت زینب کو ل : دیکھئے سیرۃ خاتم النبین حصہ دوم : ابن سعد جلد ۲